Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
34 - 41
اتنی تفصیل کے بعد کہنا یہ ہے کہ عالمِ دنیا میں آنے سے پہلے اگر انسان کو مرحلہ وار دوعالم سے گزرنا پڑتا ہے تو عالم دنیا کے بعد بھی اگر کوئی چوتھا عالم مان لیا جائے تو اس میں کیا عقلی قباحت ہے؟ اسی چوتھے عالم کا نام ہم عالم آخرت رکھتے ہیں، اگر اسی نام سے اختلاف ہے تو کوئی اور نام رکھ لیا جائے لیکن ایک چوتھا عالم تو بہرحال ماننا ہی پڑے گا؛ کیونکہ مرنے کے بعد جب روح جسم سے نکل جاتی ہے تو وہی سوال یہاں بھی اٹھے گا کہ نکل کر وہ کہاں گئی؟وہ جہاں بھی گئی ہو اسی کا نام عالمِ آخرت ہے۔
ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے وجود کو مرحلہ وار چار عالموں سے گزرنا پڑتا ہے، دوعالم سے تو ہم گزر چکے ہیں، یہ دنیا تیسرا عالم ہے جس سے ہم گزررہے ہیں اور چوتھے عالم میں مرنے کے بعد قدم رکھیں گے۔
تیسری دلیل :
جس طرح زمین و آسمان کا وجود کسی بالا تر ہستی کی مشیت کا نتیجہ ہے اسی طرح انسان کی تخلیق بھی اسی قدرت سے ہوتی ہے اور وہی اس کارخانۂ ہستی کو اپنی مرضی کے مطابق چلا رہا ہے وہی آسمان سے پانی برساتا ہے وہی زمین سے دانے اگاتا ہے اور وہی انسانی زندگی کے لیے سارے اسباب فراہم کرتا ہے۔
اسی نے انسان کو اَشرفُ المخلوقات بنایا اورعقل وفہم کی نعمت سے آراستہ کرکے خیر وشر اور صحیح و غلط میں امتیاز کرنے کی قوت عطا فرمائی۔
اس کائنات میں انسان کا مقام جتنا بلند ہے اسی اعتبار سے اس پر ذمہ داریاں