Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
33 - 41
وہ گزر چکا تھا، پہلا عالم"عالمِ اَرواح" ہے جہاں اس کی روح موجود تھی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ استقرار ِحمل(1)کے کچھ عرصہ بعد جب بچے کے جسم میں روح داخل ہوتی ہے اور وہ ماں کے پیٹ میں حرکت کرنے لگتا ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بچے کے جسم میں داخل ہونے سے پہلے وہ روح کہاں تھی یا کہاں سے آئی؟ وہ جہاں بھی موجود ہو یا جہاں سے بھی آئی ہو اسی عالم کا نام "عالمِ اَرواح" ہے۔
اب عالمِ ارواح کے بعد دوسرا عالم ہے "شکمِ مادر"(2) جسے "عالمِ اَرحام" بھی کہا جاتا ہے، اس عالم میں بھی انسان کو کم و بیش نو مہینے رہنا پڑتا ہے، ایک منٹ رک کر ذرا قدرت کا یہ حیرت انگیز انتظام دیکھئے کہ ایک چلتی پھرتی قبر میں نو مہینے تک ایک بچہ زندہ رہتا ہے، اس کے معنی ٰیہ ہیں کہ انسانی زندگی کے لیے جتنے اَسباب کی ضرورت ہے وہ سارے اسباب بچے کو وہاں فراہم کیے جاتے ہیں۔
شکمِ مادر سے باہر آجانے کے بعد اگر ساری دنیا کے اطباء و حکماء چاہیں کہ پیٹ چاک کرکے پھر بچے کو دوبارہ اس جگہ منتقل کردیں تو یقین ہے کہ ایک منٹ بھی وہاں زندہ نہیں رہ سکے گا، یہیں سے خدا اور بندوں کے انتظام کا فرق سمجھ میں آجاتا ہے کہ جو چیز بندوں کے لیے ناممکن ہے وہ خدا کی قدرت کے سامنے ممکن ہی نہیں بلکہ واقع ہے اور یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ ہر عالم کا ماحول اور تقاضا الگ الگ ہے، ایک کا قیاس دوسرے پر نہیں کیا جاسکتا۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…  یعنی حمل ٹھہرنے۔
2…  یعنی ماں کا پیٹ۔