Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
32 - 41
بلاغت کے ساتھ دیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے ۔یہ اس وقت کی بات ہے جب ایک گستاخ کافر نے ایک بوسیدہ ہڈی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا سڑی گلی ہڈی دوبارہ زندہ ہوسکتی ہے ؟ اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: (1)
وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِیَ خَلْقَہٗ ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ ہِیَ رَمِیۡمٌ ﴿۷۸﴾  قُلْ یُحْیِیۡہَا الَّذِیۡۤ اَنۡشَاَہَاۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیۡمُۨ  ﴿ۙ۷۹﴾  (یٰسٓ) (2) اور اس نے ہمارے خلاف ایک مثل گڑھی اور اپنی تخلیق کا واقعہ بھول گیا ( دوبارہ زندہ کیے جانے کے عقیدے پر اعتراض کرتے ہوئے) کہا کہ بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟آپ جواب میں فرما دیجئے کہ وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار اسے وجود بخشا تھا اور وہ اپنی ہر مخلوق کو جاننے والا ہے۔
انسانی دنیا کا یہ دستور سامنے رکھئے تو جواب کی بلاغت اچھی طرح سمجھ میں آجائے گی کہ کام پہلی بار مشکل ہوتا ہے دوسری بار تو بالکل آسان ہوجاتا ہے لیکن جو کام خدا کے لیے پہلی بار بھی مشکل نہیں تھا وہ دوسری بار کیونکر مشکل ہوجائے گا!؟
دوسری دلیل :
اس عالمِ ہستی میں انسان کی آمد پر آپ غور کریں گے تو آپ پر یہ راز کھلے گا کہ انسان اچانک یہاں نہیں آگیا بلکہ اس عالم میں قدم رکھنے سے پہلے کئی عالم سے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…  تفسیر خازن، یس، تحت الآيۃ: ۷۸، ۴/۱۳۔
2…  پ۲۳،یٰسٓ: ۷۸-۷۹۔