Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
31 - 41
 زمین کس چیز سے بنائی گئی ،پانی کا مادّہ تخلیق کیا تھا اور پہاڑوں کا وجود کس چیز کے ذریعہ عمل میں آیا؟ اگر اپنی حماقت سے کسی چیز کا نام لے لیا گیا تو پھر اس چیز کے بارے میں اسی طرح کا سوال اٹھے گا اور سوالات کا یہ سلسلہ اٹھتا ہی رہے گا جب تک کہ یہ سچی بات کہہ نہ دی جائے کہ خداوندِ قدیر نے ان ساری چیزوں کو بغیر کسی مادّہ کے صرف اپنی قدرت سے پیدا کیا۔
(قدرت سے پیدا کرنے کا مطلب:)
قدرت سے پیداکرنے کامطلب یہ ہے کہاللہ تعالیٰ نے جس چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا اس کے لیے لفظ کُنْ ( یعنی ہوجا) فرمادیا اور وہ چیز خدا کی مرضی کے مطابق وجود میں آگئی، جیسا کہ قرآنِ حکیم میں ارشاد فرمایا گیا ہے :
اِذَاۤ اَرَادَ شَیْـًٔا اَنْ یَّقُوۡلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوۡنُ ﴿۸۲﴾ (1)یعنی اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو وجود میں لانا چاہتا ہے تو اُسے کلمہ دیتا ہے کہ تو ہوجا تو وہ چیز فوراً موجود ہوجاتی ہے ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اتنی بڑی زمین اور اتنا بڑا آسمان خداوندِ قدیر نے بغیر کسی مادہ سے محض اپنی قدرت سے پیدا کیا تو یہ بات عقل کو بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ اس خدائے حی و قدیر کے لیے سڑے گلے مردوں کو دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔
قرآن ِحکیم نے عقیدۂ آخرت کے سلسلے میں اس طرح کے شبہے کا جواب جتنی 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…  پ۲۳،یٰسٓ: ۸۲۔