آدمی اپنی سرِشت(1) کے اعتبار سے چونکہ مشاہدات پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے اس لیے بہت سے لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ مرنے کے بعد جب ہم بالکل سڑ گل جائیں گے اور جب ہمارا جسم مٹی کا غبار بن کر ہر طرف بکھر جائے گا تو ان حالات میں ہم دوبارہ کیونکر زندہ کیے جاسکیں گے ؟ عقیدۂ آخرت کے سوال پر اِلْحادوتَشْکِیْک(2) کا دروازہ بند کرنے کے لیے ہم شدّت سے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اسے عقلی دلائل سے اتنا مُسَلَّم(3)کردیا جائے کہ عقلِ غلط اَندیش(4) بھی سرجھکالے اوریہ الزام بھی رَفع(5) ہوجائے کہ اندھی تقلید کے علاوہ عقیدۂ آخرت کی کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے۔
پہلی دلیل :
اپنی بات کا آغاز ہم مشاہدہ سے کرتے ہیں کہ انسانی معلومات کا سب سے پہلا ذریعہ مشاہدہ ہی ہے، چوبیس ہزار میل کی گولائی والی یہ زمین، آسمان کی بلندیوں سے گلے ملتے ہوئے پہاڑوں کی یہ قطار اور بے پایاں وسعتوں میں پھیلا ہوا سمندروں کا یہ لہراتا ہوا خطہ یہ ساری چیزیں ہم سے سوال کرتی ہیں کہ ہمیں کس نے پیدا کیا ؟
ظاہر ہے کہ اس سوال کا جواب سِوا اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ ان ساری چیزوں کو خدائے وَحْدَہ لَاشَرِیْک نے پیدا کیا پھر اس کے بعد دوسرا سوال اٹھے گا کہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… خصلت۔
2… یعنی عقیدۂ آخرت سے انکار وانحراف اوراس میں شکوک وشبہات۔
3… ثابت۔
4… غلط سوچ رکھنے والی عقل۔
5… دور۔