کے سارے اعمال کا حساب دینا ہوگا اور اپنے عمل کے اعتبار سے جزا و سزا دونوں طرح کے نتائج کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا، اسی یَـوْ مُ الْحِساب(یعنی حساب کے دن) کا نام مذہبِ اسلام کی زبان میں قیامت ہے۔
(عقیدۂ آخرت کے مُحَرِّکات(1))
اگر آخرت کا یہ اعتقاد دلوں سے نکل جائے تو مذہب کی پابندی کا سوال ہی بے معنی ہو کر رہ جائے، آخر کوئی آدمی کیوں رمضان کے مہینے میں سارا دن اپنے آپ کو بھوکا پیاسا رکھے ،ٹھٹھرتی ہوئی سردی میں کیوں کوئی اپنے گرم لحاف سے نکل کر مسجدکی طرف جائے ،اپنے خون پسینے سے کمائی ہوئی دولت کیوں کوئی زکوۃ کے نام پر غریبوں میں لٹائے ، خواہشِ نفس اور قدرت و اختیار کے باوجود کیوں کوئی ایسی بہت ساری چیزوں سے منہ موڑے جسے مذہب نے ممنوع قر ار دیا ہے؟ یہ ساری مشقتیں اور تکلیفیں صرف اسی لیے تو گوارا کرلی جاتی ہیں کہ ان کے پیچھے یا تو عذاب کا خطرہ لاحق ہے یا پھر دائمی آسائش و راحت کا تصوُّر مذہب کی ہدایات پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔
عقیدۂ آخرت کے یہ دومحرکات ہیں جو دل کے ارادوں پر حکومت کرتے ہیں دوسرے لفظوں میں اسی عقیدے کا نام اِیمان بِالْغَیب ہے یعنی اپنی آنکھ سے دیکھے اور اپنے کان سے سنے بغیر ان حقائق کا اپنے مشاہدہ سے بھی بڑھ کر یقین کیا جائے جن کی خبر رسولِ اعظم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ذریعہ ہم تک پہنچی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… یعنی عقیدۂ آخرت پر ابھارنے والی چیزیں۔