قیامت کی گھڑی آکر رہے گی اس لیے بھی کہ
کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجْہَہٗ ؕ لَہُ الْحُکْمُ وَ اِلَیۡہِ تُرْجَعُوۡنَ ﴿۸۸﴾٪)(1)
ہر چیز فانی ہے سوا اُس کی ذات کے اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے۔
(سورۃ القصص۲۸،رکوع۹)
(ہُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظّٰہِرُ وَ الْبَاطِنُ ۚوَ ہُوَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۳﴾)(2)
وہی اوّل وہی آخر وہی ظاہر وہی باطن اور وہی سب کچھ جانتا ہے۔ (سورۃ الحدید۵۷،رکوع۱)
الٰہی آیات کی ترجمانی اقبال نے بالِ جبریل کی نظم "مسجد قرطبہ" کے اس شعر میں کی ہے کہ
اوّل و آخر فنا باطن و ظاہر فنا نقشِ کہن ہو کہ نو منزل آخر فنا
عقیدۂ آخرت پر عقلی دلائل
مادیت پرستی کے اس دور میں واضح طور پر محسوس کررہا ہوں کہ ہمارے افکار واعمال پر اب مذہب کی گرفت دن بہ دن ڈھیلی پڑتی جارہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کی باز پُرس کا خطرہ اب ایک تصوُّرِ موہوم ہو کر رہ گیا ہے حالانکہ غور فرمائیے تو مذہب کی بنیاد ہی عقیدۂ آخرت پر ہے۔
عقیدۂ آخرت کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کا یقین دل میں راسخ ہوجائے کہ ہم مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور خدا کے سامنے ہمیں اپنی زندگی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… پ۲۰،القصص: ۸۸۔
2… پ۲۷،الحدید: ۳۔