کو ماننے سے وہی لوگ انکار کرتے ہیں جن کے متعلق فرمایا گیا کہ
(یُّؤْفَکُ عَنْہُ مَنْ اُفِکَ ﴿ؕ۹﴾)(1) اس قرآن سے وہی اوندھا کیا جاتا ہے جس کی قسمت میں ہی اوندھا یا جانا ہو۔(سورۃ الذریٰت۵۱،رکوع۱)
جب مومنین میدانِ حشر سے جنت کی طرف لے جائے جارہے ہوں گے اور آخرت سے انکار کرنے والے جن کے متعلق دوزخ کا فیصلہ ہوچکا ہوگا، اندھیرے میں ٹھوکریں کھارہے ہوں گے تو روشنی صرف اہلِ ایمان کے ساتھ ہوگی اس لئے کہ
(یَوْمَ لَا یُخْزِی اللہُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ ۚ نُوۡرُہُمْ یَسْعٰی بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ بِاَیۡمٰنِہِمْ)(2) جس دن ( روزِ حشر) اللہ رسوا نہ کرے گا نبی او ران کے ساتھ کے ایمان والوں کو، اُن کا نور دوڑتا ہوگا اُنکے آگے اور اُنکے دہنے۔ (سورۃ التحریم۶۶،رکوع۲)
اس وقت اہلِ ایمان پر حقیقت کی کیفیت طاری ہوگی اور اس وقت بھی انہیں اپنے قصوروں اور کوتاہیوں کا احساس کرکے یہ اندیشہ لاحق ہوگا کہ کہیں ان کا نور بھی نہ چھن جائے اس لیے وہ دعا کریں گے کہ
(رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوۡرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا ۚ اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۸﴾)(3)اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارا نور پورا کردے اور ہمیں بخش دے بے شک تجھے ہر چیز پر قدرت ہے۔ (سورۃ التحریم۶۶،رکوع۲)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… پ۲۶،الذّٰریٰت: ۹۔
2… پ۲۸،التحریم: ۸۔
3… پ۲۸،التحریم: ۸۔