Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
26 - 41
نماز کا پابند ہونا یا نہ ہونا بھی قرآن کی رو سے عَلَی التَّـرْ  تِیب(1)  آخرت پر یقین رکھنے یا نہ رکھنے کے مترادِف قرار دیا گیا ہے، فرمایا گیا:
(وَاسْتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ؕ وَ اِنَّہَا لَکَبِیۡرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیۡنَ﴿ۙ۴۵﴾   الَّذِیۡنَ یَظُنُّوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمْ وَاَنَّہُمْ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۴۶﴾٪)(2)
اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بے شک نماز ضرورضروربھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اس کی طرف پھرنا ۔ (سورۃ البقرہ۲،رکوع۵)
(انفرادی اور اجتماعی رویّوں کی اصلاح کا ذریعہ:)
انسان کا انفرادی رویہ اور انسانی گروہوں کا اجتماعی رویہ کبھی اس وقت تک درست نہیں ہوتا جب تک یہ سُطُور(3) اور یہ یقین انسانی سیرت کی بنیاد میں پیوست نہ ہو کہ ہم کو خدا کے سامنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے اگر عقیدۂ آخرت حقیقتاً نفس الاَمری(4)کے مطابق نہ ہوتا اور اس کا انکار حقیقت کے خلاف نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس اقرار کے یہ نتائج ایک لزومی شان کے ساتھ ہمارے تجربے میں آتے، ایک ہی چیز سے پیہم صحیح نتائج کا برآمد ہونا اور اس کے عدم کے نتائج کا نتیجہ غلط ہوجانا بس اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ وہ چیز بجائے خودصحیح ہے، آخرت
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…  سلسلہ وار۔
2…  پ۱،البقرۃ: ۴۵-۴۶۔
3…  لکیریں۔
4…  یعنی واقع۔