اخلاق کی خرابی اس کا لازمی نتیجہ ہے اور تاریخ ِانسانی شاہد ہے کہ زندگی کے اس نظریے کو جس قوم نے اختیار کیا ہے وہ آخر کار تباہ ہو کر رہی، آخرت سے انکار دراصل خدا اور اس کی قدرت اور حکمت سے انکار ہے اور آخرت سے انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو خواہشاتِ نفس کی بندگی کرنا چاہتے ہیں اور عقیدۂ آخرت کو اپنی اس آزادی میں مانِع(1) سمجھتے ہیں جب وہ آخرت کا انکار کردیتے ہیں تو ان کی بندگیٔ نفس اور زیادہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ اپنی گمراہی میں روز بہ روز زیادہ ہی بھٹکتے چلے جاتے ہیں، ارشاد ہے:
(اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ بِالْاٰخِرَۃِ زَیَّنَّا لَہُمْ اَعْمَالَہُمْ فَہُمْ یَعْمَہُوۡنَ ؕ﴿۴﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَہُمْ سُوۡٓءُ الْعَذَابِ وَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوۡنَ ﴿۵﴾)(2)
وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے اُن کےکَوتک(3) اُن کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں تو وہ بھٹک رہے ہیں، یہ وہ ہیں جن کے لیے بڑا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں۔ (سورۃ النمل۲۷،رکوع۱)
(کَذَّبُوۡا بِالسَّاعَۃِ ۟ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنۡ کَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِیۡرًا ﴿ۚ۱۱﴾)(4)
یہ تو قیامت کو جھٹلاتے ہیں اور جو قیامت کو جھٹلائے ہم نے اس کے لیے تیار کررکھی ہے بھڑکتی ہوئی آگ۔ (سورۃ الفرقان۲۵،رکوع۲)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… یعنی رکاوٹ۔
2… پ۱۹،النمل: ۴-۵۔
3… بُرے کام۔
4… پ۱۸،الفرقان: ۱۱۔