وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مُشْفِقُوۡنَ مِنْہَا ۙ وَ یَعْلَمُوۡنَ اَنَّہَا الْحَقُّ ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیۡنَ یُمَارُوۡنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۱۸﴾)(1)نہیں رکھتے اور جنہیں اس پر ایمان ہے وہ اس سے ڈررہے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ حق ہے، سنتے ہو بے شک جو قیامت میں شک کرتے ہیں ضرور دور کی گمراہی میں ہیں۔ (سورۃ الشوری۴۲،رکوع۲)
(ابتدائی دور کی سورتوں میں "عقیدۂ آخرت"پرزور دینے کی وجہ:)
مکی دور میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی دعوت میں سب سے زیادہ جس چیز کا مذاق منکرین نے اڑایا وہ آخرت کے وجوب سے تھا اور وہ اس بات پر صرف حیرانی اور تعجب کا ہی اظہار نہیں کرتے تھے بلکہ اسے بالکل بعید اَز عقل و امکان سمجھ کر اسے ناقابل یقین ہی نہیں بلکہ ناقابل تصوُّر سمجھتے تھے مگر چونکہ آخرت کے عقیدے کو مانے بغیر انسان کا طرزِ فکر سنجیدہ نہیں ہوسکتا، خیر و شر کے معاملے میں اس کا معیارِ اَقدار(2) بدل نہیں سکتا اور وہ دنیا پرستی کی راہ چھوڑ کر اسلام کی راہ پرنہیں چل سکتا اس لیے مکہ مُعَظَّمَہ کے ابتدائی دور کی سورتوں میں زیادہ تر زور آخرت کا عقیدہ دلوں میں بٹھانے میں صَرف کیا گیا اور اس انداز میں کیا گیا کہ توحید کا تصوُّر بھی خود بخود ذہن نشیں ہوتا چلا جاتا ہے۔
(انکارِ آخرت کے بھیانک نتائج:)
انکارِ آخرت وہ چیز ہے جو کسی شخص ، گروہ یا قوم کو مجرم بنائے بغیر نہیں رہتی،
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… پ۲۵،الشوری: ۱۷-۱۸۔
2… جانچنے کا انداز۔