Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
23 - 41
عِلْمُہَا عِنۡدَ اللہِ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَایَعْلَمُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾)(1) 	اُسے خوب تحقیق کررکھا ہے  تم فرماؤ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے لیکن بہت لوگ جانتے نہیں۔ (سورۃ الاعراف۷،رکوع۲۳)
(فِیۡمَ اَنۡتَ مِنۡ ذِکْرٰىہَا ﴿ؕ۴۳﴾ اِلٰی رَبِّکَ مُنۡتَہٰىہَا ﴿ؕ۴۴﴾ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُنۡذِرُ مَنۡ یَّخْشٰىہَا ﴿ؕ۴۵﴾)(2)تمہیں اس (قیامت کب کو ٹھہری ہے) کے بیان سے کیا تعلق، تمہارے رب ہی تک اس کی انتہا ہے ، تم تو فقط اُسے ڈرانے والے ہو جو اس سے ڈرے۔ (سورۃ النزعٰت۷۹،رکوع۲)
(قیامت کا وقت چھپائے جانے کی حکمت:)
اس وقت کو مخفی اس لیے رکھا گیا ہے کہ آزمائش کا مدَّعا پورا ہوسکے اور جب یہ ساعتِ مُنْتَظَرَہ(3) آئے تو ہر شخص کو جس نے دنیا میں جیسی سعی کی ہے اس کا اُسے ٹھیک ٹھیک بدلہ دیا جاسکے۔
فیصلہ کی گھڑی کو دور سمجھ لینا انسان کی سب سے بڑی بھول ہے کیونکہ انسان کی ہر سانس آخری سانس ہوسکتی ہے آخرت پر یقین رکھنے اور نہ رکھنے والوں کا نفسیاتی تجزیہ خدا نے اس طرح پیش کیا ہے:
(وَمَا یُدْرِیۡکَ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیۡبٌ ﴿۱۷﴾ یَسْتَعْجِلُ بِہَا الَّذِیۡنَ لَا یُؤْمِنُوۡنَ بِہَا ۚ اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو، اس کی جلد ی مچارہے ہیں وہ جو اس پر ایمان
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…  پ۹،الاعراف: ۱۸۷۔
2…  پ۳۰،النزعٰت: ۴۳-۴۵۔
3…  گھڑی جس کا انتظار تھا۔