منکرین اگر کبھی سنجیدگی سے بھی قیامت کے یقینی ہونے پر رسول اللہ کی طرف مخاطب ہوتے تھے تب بھی طنزیہ انداز ہی میں استفسار کرتے تھے کہ
(وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنۡ کُنۡتُمْ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾)(1)
اور کہتے ہیں یہ وعدہ کب آئے گا اگر تم سچے ہو۔ (سورۃ الملک۶۷،رکوع۲)
(یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰہَا ؕ)(2)
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کوٹھہری ہے۔ (سورۃ الاعراف۷،رکوع۲۳)
(یَسْـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰىہَا ﴿ؕ۴۲﴾)(3)
تم سے قیامت کو پوچھتے ہیں کہ وہ کب کے لیے ٹھہری ہوئی ہے۔(پ۳۰، النزعٰت:۴۲) (4)
ان سوالات کا جواب انہیں بار بار دیا جاتا رہا، چند جوابات درج ذیل ہیں جو رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے دلوائے گئے:
(قُلْ اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ ۚ لَا یُجَلِّیۡہَا لِوَقْتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕۘؔ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ ؕ لَا تَاۡتِیۡکُمْ اِلَّا بَغْتَۃً ؕ یَسْـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا ؕ قُلْ اِنَّمَا
تم فرماؤ اس ( قیامت کب کو ٹھہری ہے) کاعلم تو میرے رب کے پاس ہے اُسے وہی اس کے وقت پر ظاہر کرے گا، بھاری پڑرہی ہے آسمانوں اور زمین میں، تم پر نہ آئے گی مگر اچانک ،تم سے ایسا پوچھتے ہیں گویا تم نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… پ۲۹،الملک: ۲۵۔
2… پ۹،الاعراف: ۱۸۷۔
3… پ۳۰،النزعٰت: ۴۲۔
4… اصل میں یہاں سورۂ عبس کا حوالہ دیا گیا تھا جسے کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے تصحیح کردی گئی ۔