Brailvi Books

عقیدۂ آخرت
21 - 41
 پارِینہ(1) کہہ کر اڑاتے تھے؛ اس لیے خدائے تعالیٰ نے فرمایا:
(قَالُوۡا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوۡنَ ﴿۸۱﴾قَالُوۡۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّ عِظٰمًا ءَ اِنَّا لَمَبْعُوۡثُوۡنَ ﴿۸۲﴾ لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَاٰبَآؤُنَا ہٰذَا مِنۡ قَبْلُ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسٰطِیۡرُ الْاَوَّلِیۡنَ ﴿۸۳﴾) (2) انہوں نے وہی کہی جو اگلے کہتے تھے، بولے: کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں کیا پھر نکالے جائیں گے بے شک یہ وعدہ ہم کو اور ہم سے پہلے باپ دادا کو دیا گیا، یہ تو نہیں مگر وہی اگلی داستانیں۔ (سورۃ المؤمنون۲۳،رکوع۵)
خدائے تعالیٰ نے دوبارہ زندہ کیے جانے کی وجہ بھی اُنہیں بتائی جس کا براہِ راست تعلق عقیدۂ آخرت پر یقین رکھنے سے ہے،فرمایا:
(ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوۡہُ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾اِلَیۡہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیۡعًا ؕ وَعْدَ اللہِ حَقًّا ؕ اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیۡمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ بِمَا کَانُوۡا یَکْفُرُوۡنَ ﴿۴﴾)(3)
یہ ہے تمہارا اللہ تمہارا رب تو اس کی بندگی کرو تو کیا تم دھیان نہیں کرتے اسی کی طرف تم سب کو پھرنا ہے اللہ کا سچا وعدہ بیشک وہ پہلی بار بناتا ہے پھر فنا کے بعد دوبارہ بنائے گا کہ ان کو جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے انصاف کا صلہ دے اور کافروں کے لیے پینے کو کھولتا پانی اور دردناک عذاب بدلا ان کے کفرکا۔ (سورۃ یونس۱۰،رکوع۱)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1…  پرانی کہانی۔
2…  پ۱۸،المؤمنون: ۸۱-۸۳۔
3…  پ۱۱،یونس: ۳-۴۔