ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ وَ لَاۤ اَصْغَرُ مِنۡ ذٰلِکَ وَلَاۤ اَکْبَرُ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ٭ۙ﴿۳﴾)(1)
(عَالِمُ الْغَیْب) اس سے غائب نہیں ذرّہ بھر کوئی چیز آسمانوں میں اور زمین میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر ایک صاف بتانے والی کتاب میں ہے۔ (سورۃ السبا۳۴،رکوع۱)
پروردگار کی قسم کھاتے ہوئے اس کے لیے عَالِمُ الْغَیْب کی صفت استعمال کرنے سے خود بخود اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کا آنا تو یقینی ہے مگر اس کے آنے کا وقت عَالِمُ الْغَیْب کے سوا کسی کو معلوم نہیں قیامت کے حقیقی ہونے کو خدا نے نہایت حکیمانہ طریقہ سے یہ کہہ کر کہ جس طرح آج کے بعد کل کا آنا لابُدی(2)ہے اسی طرح آخرت کا بھی وقوع پذیر ہونا لازمی ہے اور اسی لیے خدا نے اس روز ِآخرت کے لیے انسان کو تیاری کرنے کی ہدایت فرمائی ہے:
(یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَ لْتَنۡظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ وَ اتَّقُوا اللہَ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۸﴾وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ نَسُوا اللہَ فَاَنۡسٰىہُمْ اَنۡفُسَہُمْ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوۡنَ ﴿۱۹﴾لَا یَسْتَوِیۡۤ اَصْحٰبُ
اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ کل کے لیے کیا آگے بھیجااور اللہ سے ڈرو بے شک اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے اور ان جیسے نہ ہو جو اللہ کو بھول بیٹھے تو اللہ نے اُنہیں بلا میں ڈالا کہ اپنی جانیں یاد نہ رہیں وہی فاسق ہیں، دوزخ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1… پ۲۲،سبا:۳۔
2… یقینی۔