اس شخص کے یہ کہنے سے کہ وَ لَئِنۡ رُّدِدۡتُّ اِلٰی رَبِّیۡ ظاہر ہے کہ وہ خدا کے وجود کا قائل
تھا مگر آخرت کا قائل نہ تھا، اس لیے اس کے ساتھی نے اسے کُفْر بِاللہ کا مجرم قرار دیا۔ان ساری آیات اور مکالمہ سے دین میں عقیدۂ آخرت کی اہمیت کا یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ کُفْر بِاللہ محض ہستیِ باری کے انکار کا نام ہی نہیں ہے بلکہ تکبر اور فخر و غرور اور انکارِ آخرت بھی اللہ سے کفر ہی ہے، جس نے یہ سمجھا کہ میری دولت اور شان و شوکت کسی کا عطیہ نہیں بلکہ میری قوت و قابلیت کا نتیجہ ہے اور میری دولت لازوال ہے کوئی اس کو مجھ سے چھیننے والا نہیں اور کسی کے سامنے مجھے حساب دینا نہیں وہ اگر خدا کو مانتا بھی ہے تو محض ایک وجود کی حیثیت سے مانتا ہے اپنے مالک اورآقا اورفرمانروا کی حیثیت سے نہیں مانتاحالانکہ اِیمان بِاللہ اسی حیثیت سے خدا ماننا ہے نہ کہ محض ایک موجود ہستی کی حیثیت سے۔
(وقوع قیامت عقل و انصاف کا تقاضا ہے:)
قیامت کا وقوع عقل اور انصاف کا تقاضا ہے کیونکہ جب خدا نے انسان کو عقل وتمیز اور تصرُّف کے اختیارات دے رکھے ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ اس کے اعمال وافعال سے بھی باخبر رہے گا اور یہ دیکھے گا کہ اُس کی زمین میں اِس نے ان اختیارات کو کیسے استعمال کیا؟ قیامت برپا کیے بغیر خدا کی حکمت کے تقاضے پورے نہیں ہوسکتے اور ایک حکیم سے بعید ہے کہ وہ ان تقاضوں کو پورا نہ کرے اسی لیے فرمایا کہ
(لِیَجْزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا (یہ قیامت اس لیے برپا کی جائے گی کہ) تاکہ