پانچوں میں افضل پہلا طریقہ ہے، یہ طریقے اس درجہ مفید ہیں کہ انہیں اِخفا کرتے ہیں ، رُموز میں لکھتے ہیں ، فقیر نے خاص اپنے برادرانِ طریقت کے لئے اسے عام کیا۔
پاسِ اَنفاس
انہیں پانچوں طریقوں سے جسے چاہے ہر سانس کی آمدورفت میں کھڑے بیٹھے،چلتے پھرتے،وضو بے وضو بلکہ قضائے حاجت کے وقت بھی ملحوظ رکھے یہاں تک کہ اس کی عادت پڑ جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے اب سوتے میں بھی ہر سانس کے ساتھ ذکر جاری رہے گا۔
تصور ِشیخ
خلوت میں آوازوں سے دور، رُو بمکانِ شیخ،اور وصال ہوگیا تو جس طرف مزارِ شیخ ہو ادھر متوجہ بیٹھے،محض خاموش،باادب ،بکمالِ خشوع صورتِ شیخ کا تصور کرے اور اپنے آپ کو اس کے حضور حاضر جانے اور یہ خیال دل میں جمائے کہ سرکارِ رسالت علیہ افضل الصلوٰۃ و التحیۃ سے انوار وفیوض شیخ کے قلب پر فائض ہو رہے ہیں ، میرا قلب قلبِ شیخ کے نیچے بحالت ِدَر ُ یوزہ گری (1) لگا ہوا ہے،اس میں سے انوار وفیوض اُبل اُبل کر میرے دل میں آرہے ہیں ،اس تصور کو بڑھائے یہاں تک کہ جم جائے اور تکلف کی حاجت نہ رہے،اس کی انتہا پرصورت ِشیخ خود مُتَمَثِّل ہو کرمرید کے ساتھ رہے گی اور ہر کام میں مدد کرے گی اور اس راہ میں جو مشکل اسے پیش آئے گی اس کا حل بتائے گی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… یعنی سائل کی طرح