یہ ذکر ایسے وقت ہو یاایسی جگہ ہو کہ رِیا نہ آئے، کسی نمازی، ذاکر یا مریض یا سوتے کو تشویش نہ ہو، اگر دیکھے کہ رِیا آتا ہے تو نہ چھوڑے اور خیالِ رِیا کو دفع کرے ، اللہ عزوجل کی طرف اس کے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کے توسل سے رجوع لائے، تائب ہو۔ اِنْ شَآءَ اللہ ریا سے محفوظ رہے گا یا رِیا دفع ہوجائے گا۔
ذِ ْکر ِخفی
دوزانو آنکھ بند کئے،زبان کو تالو سے جمائے کہ متحرک نہ ہو محض تصور سے کہ سانس کی آواز بھی نہ سنائی دے، ان پانچ طریقوں سے جو طریقہ چاہے اختیار کر ے خواہ وقتاً فوقتاً پانچوں برتے:
{1} سرجھکا کر ناف سے ’’لَا‘‘ کا لام نکال کر سر بتدریج اوپر اٹھاتا ہوا ’’اِلٰہَ‘‘ کی ’’ہَ‘‘ دماغ تک لے جائے اور معاً ’’اِلَّا اللہُ‘‘ کا پہلا ہمزہ وہاں سے شروع کرکے اس کی ضرب ناف ،خواہ دل پر کرے ۔
{2} اسی طور پر ’’لَا ۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ‘‘ اس میں دوسرا جز ’’اِلَّا ہُوَ‘‘ ہوگا۔
{3} صرف ’’اِلَّا اللہُ‘‘ کو پہلا ہمزہ ناف سے اٹھا کر ’’ اِلَّا الْ‘‘ دماغ تک لے جائے اور معاً ’’لَہٗ‘‘ وہاں سے اتار کر ناف یا دل پر ضرب کرے۔
{4} فقط ’’اَللہُ‘‘ پہلا ہمزہ ناف سے شروع کر کے ’’لَا‘‘ کو دماغ تک پہنچائے اور بدستور ’’ہُ‘‘ کی ضرب کرے۔
{5}محض ’’اللہُ‘‘ بسکونِ ہا پہلا ہمزہ ناف سے اٹھا کر ’’لام‘‘ دماغ تک اور ’’لَاہْ‘‘ کی ضرب۔ اسے سو بار سے شروع کر کے حسب ِ وسعت ہزاروں تک پہنچائے اور ان