اورآ خر’’اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ‘‘سے۔(1)
ان دونوں کے فوا ئد بے شمار ہیں۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اٰمَنَ الرَّسُوۡلُ بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡہِ مِنۡ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوۡنَؕ کُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰٓئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ۟ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ۟ وَقَالُوۡا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا٭۫ غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَ اِلَیۡکَ الْمَصِیۡرُ﴿۲۸۵﴾ لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیۡہَا مَا اکْتَسَبَتْؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنۡ نَّسِیۡنَاۤ اَوْ اَخْطَاۡنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَیۡنَاۤ اِصْرًا کَمَا حَمَلْتَہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبْلِنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَۃَ لَنَا بِہٖۚ وَاعْفُ عَنَّاٝ وَاغْفِرْ لَنَاٝ وَارْحَمْنَاٝ اَنۡتَ مَوْلٰىنَا فَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۲۸۶﴾٪(پ۱،البقرۃ ۲۸۵-۲۸۶) ترجمۂ کنزالایمان:رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو یہ کہتے ہوئے کہ ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے اور عرض کی کہ ہم نے سنا اور مانا تیری معافی ہو اے رب ہمارے اور تیری ہی طرف پھرنا ہے اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر اس کا فائدہ ہے جو اچھا کمایا اور اس کا نقصان ہے جو برائی کمائی اے رب ہمارے ہمیں نہ پکڑ اگر ہم بھولیں یا چوکیں اے رب ہمارے اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے اگلوں پر رکھا تھا اے رب ہمارے اور ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار نہ ہو اور ہمیں معاف فرمادے اور بخش دے اور ہم پر مہر کر تو ہمارا مولیٰ ہے تو کافروں پر ہمیں مدد دے۔
2…صحیح البخاری،کتاب فضائل القرآن، باب فضل البقرۃ، الحدیث:۵۰۰۹، ج۳،ص۴۰۵ و شعب الایمان للبیہقی، باب فی تعظیم القرآن، فصل فی فضائل السور والآیات، الحدیث:۲۴۱۲، ج۲،ص۴۶۴۔