Brailvi Books

الوظیفۃ الکریمہ
29 - 45
عطا ہو،آگے ان کا کرم بے حد و انتہا ہے۔
فراق و وصل چہ خواہی رضائے دوست طلب	کہ حیف باشد ازو غیرِ او تمنائے (1)
	مُنہ مدینہ طیبہ کی طرف ہو اور دل حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم کی طرف، دست بستہ پڑھے،یہ تصور باندھے کہ روضۂ انور کے حضور حاضر ہوں  اور یقین جانے کہ حضورِانور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وعلیٰ آلہ واصحابہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں ،اس کی آواز سن رہے ہیں ،اس کے دل کے خطر وں پرمُطَّلِع ْہیں۔
{2} اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوۡمُط  اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ اَللہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَط صَلِّ وَسَلِّمْ وَبَارِکْ اَبَدًا عَلَی النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَاٰلِہٖ وَاَصْحَابِہٖ اَجْمَعِیْنَط اَللہُ اللہُ اَللہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا غَوْثُ یَا غَوْثُ یَا غَوْثُ(2) سو مرتبہ،گناہوں  کی مغفرت،آفاتِ دنیاوی واُخروی سے نَجات وصفاء ِقلب۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یعنی وصل و فراق سے کیا غرض!محبوب کی خوشنودی کا طالب ہو،دوست سے اس کے علاوہ کی تمناکرنا باعث افسوس ہے۔
2…ترجمہ: اللہ عزوجلہے جس کے سواکوئی عبادت کے لائق نہیں وہ آپ زندہ اور اَوروں کا قائم رکھنے والا، اللہعزوجل ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں بہت مہربان رحمت والا، اے اللہ!عزوجل تیرے سوا کوئی معبود نہیں، پاکی ہے تجھ کو، بے شک مجھ سے بے جا ہوا،  اے اللہ!عزوجل  دائمی درود وسلام اور برکتیں نازل فرما اُ   مّینبی پر اور ان کی آل اور تمام اصحاب پر، اللہ عزوجل ہے، اللہ عزوجل ہے، اللہ عزوجل ہے، اللہ عزوجل کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ عزوجل کے رسول ہیں، اللہ عزوجل ان پر رحمت و سلامتی نازل فرمائے، اے فریاد رَس! اے فریاد رَس! اے فریاد رَس!