ایسے وَقت سفر کیجئے کہ بیچ میں کوئی نَماز نہ آئی٭سونے کے اَوقات میں ہر گز ایسی غفلت نہ ہو کہ مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ نَماز قضا ہو جائی٭دورانِ سفر بھی نَماز میں ہرگزکوتاہی نہ ہو،خُصوصاً ہوائی جہاز، ریل گاڑی اور لمبے روٹ کی بس میں نَماز کیلئے پہلے ہی سے وُضو تیّار رکھئی٭راستے میں بس خراب ہو جائے تو ڈرائیور یا مالِکان بس وغیرہ کو کوسنے اور بک بک کر کے اپنی آخِرت داؤپر لگانے کے بجائے صَبرسے کام لیجئے اورجنَّت کی طلب میں ذِکرو دُرُود میں مشغول ہو جایئی٭ریل، بس وغیرہ میں دیگرمُسافِروں کے حقِّ پڑوس کا خیال رکھتے ہوئے اُن کے ساتھ خوب حُسنِ سُلوک کیجئے، بے شک خود تکلیف اُٹھا لیجئے مگر اُن کو راحت پہنچا یئی٭بس وغیرہ میں چلّا کر باتیں کر کے اور زور سے قہقہے لگا کر دوسرے مسا فِروں کو اپنے آپ سے بدظن مت کیجئی٭ بھیڑ کے موقع پر کسی ضعیف یا مریض کو دیکھیں تو بہ نیتِ ثواب اُس کو بس وغیرہ میں بَاِصرار اپنی نِشَست پیش کر دیجئے ٭حتَّی الامکان فلموں اور گانے باجوں سے پاک بس اور ویگن وغیرہ میں سفر کیجئے ٭سفر سے واپَسی پر گھر والوں کے لئے کوئی تحفہ لیتے آئیے کہ فرمانِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے:’’جب سفر سے کوئی واپَس آئے تو گھر والوں کے لئے کچھ نہ کچھ ہَدِیَّہ(یعنی تحفہ) لائے ،اگر چِہ اپنی جھولی میں پتّھر ہی ڈال لائے‘‘(اِبنِ عَساکِر ج۵۲ص۲۳۰)٭شرعی سفر سے واپَسی میں مکروہ وَقت نہ ہو تو سب سے پہلے اپنی مسجِد میں اور جب گھر پہنچے تو گھر پر بھی دو رَکعت نَفل پڑھئے۔
ہزاروں سنتیں سیکھنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ دو کتب (۱) 312 صَفْحات پر