Brailvi Books

ابو جہل کی موت
23 - 26
 اگر کوئی شخص سفر پر جارہا ہوتو اس (مسافر)سے مُصافحہ کرے یعنی ہاتھ ملائے اور اُس کے لیے یہ دُعامانگے: اَسْتَوْدِعُ اللّٰہَ دِیْنَکَ وَاَمَانَتَکَ وَخَوَاتِیْمَ عَمَلِکَ  ترجَمہ: میں تیرے دین ، تیری امانت اور تیرے عمل کے خاتِمے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سُِپرد کرتا ہوں (ایضاً ص۷۹) ٭ مقیم کے لیے مُسافِر یہ دُعا پڑھے:  اَسْتَوْدِعُکَ اللّٰہَ الَّذِیْ لَایُضِیْعُ وَدَائِعَہٗ۔ ترجَمہ : میں تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سُِپرد کرتا ہوں جو سو نپی ہوئی امانتو ں کو ضائع نہیں فرماتا( ابن ماجہ حدیث۲۸۲۵ج۳ص۳۷۲)٭ منزِل پر اُترتے وقت یہ  پڑھئے:اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ  شَرِّمَا خَلَقطتر جَمہ : میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کامِل کلمات کے واسطے سے ساری مخلوق کے شَر سے پناہ مانگتا ہوں ۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  ہر نقصان سے بچے گا (الحِصنُ الحَصین ص۸۲) ٭ مُسافِر کی دُعا قَبول ہوتی ہے ، لہٰذا اپنے لیے، اپنے والِدَین و اَہل وعِیال اور عام مسلمانوں کے لیے دعائیں کیجئے ٭سفر میں کوئی شخص بیمار ہوگیا یا بیہوش ہوگیا تواس کے ساتھ والے اُس مریض کی ضَروریات  میں اُس کا مال بِغیر اجازت خَرچ کرسکتے ہیں (رَدُّالْمُحتار ج ۹ ص ۳۳۴ ، ۳۳۵،بہارِ شریعت ج۳ ص۲۲۲)٭مُسافِرپر واجِب ہے کہ نَماز میں قَصْر( قَصْ۔رْ) کرے یعنی چار رَکعَت والے فرض کو دوپڑھے اِس کے حق میں دو ہی رَکْعَتیں پوری نَماز ہے (بہارِ شریعت ج۱ ص ۷۴۳،عالمگیری ج۱ص۱۳۹)٭مغرِب اور وِتر میں قَصْر نہیں ٭سنّتوں میں قَصْرنہیں بلکہ پوری پڑھی جائینگی، خوف اور رَوارَوی( یعنی گھبراہٹ) کی حالت میں سنّتیں مُعاف ہیں اور امن کی حالت میں پڑھی جائینگی (عالمگیری ج۱ص۱۳۹)٭کوشِش کرکے ہوائی جہاز یا ریل یا بس میں