Brailvi Books

ابو جہل کی موت
22 - 26
سورۃ)سے پڑھ کر باہَر نکلے۔ وہ رَکعتیں واپَس آنے تک اُس کے اَہل و مال کی نگہبانی کریں گی(ایضاً) ٭دو رَکعت بھی پڑھی جا سکتی ہیں ، حدیثِ پاک میں ہے: ’’کسی نے اپنے اہل کے پاس اُن دو رکعتوں سے بہتر نہ چھوڑا، جو بوقتِ ارادۂ سفر ان کے پاس پڑھیں ‘‘   (مصنّف ابن ابی شیبۃ ج۱ ص۵۲۹) ٭سفر میں تین یا اِس سے زیادہ اسلامی بھائی ہوں تو ایک کو’’ امیر‘‘ بنا لیں کہ سنّت ہے ۔جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے :’’جب سفر میں تین شخص ہوں تو ایک کو اپنا امیر بنالی‘‘ (ابو داؤدج۳ص۵۱ حدیث۲۶۰۹)٭اس (یعنی امیر بنانے )میں کاموں کا انتِظام رَہتا ہے ، سردار(یعنی امیر) اُسے بنائیں جو خوش خُلق (یعنی با اَخلاق)عاقِل دیندار ہو، سردار (یعنی امیر)کو چاہیے کہ رفیقوں کے آرام کو اپنی آسائش پر مُقدَّم رکھے  (بہارِ شریعت ج۱ص۱۰۵۲) ٭ آئینہ، سرمہ، کنگھا، مسواک ساتھ رکھے کہ سُنّت ہے  (ایضاًص۱۰۵۱)٭ ذِکرُ اللّٰہسے دل بہلائے کہ فِرِشتہ ساتھ رہے گا، نہ کہ (بُرے)شِعر و لَغوِیات (یعنی بے ہودہ باتوں )سے کہ شیطان ساتھ ہوگا (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱۰ ص۷۲۹)  ٭اگردشمن یا ڈاکو کا خوف ہوتو سو رۂ’’ لِاِیْلٰف‘‘پڑھ لیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ  ہر بلاسے اَمان ملے گی ۔ یہ عمل مُجرَّب ہے(الحصن الحصین ص۸۰) ٭ سفر ہو یا حَضَر (یعنی قِیام )جب بھی کسی غم یا پریشانی کا سامنا ہو لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہط اور حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ ا لْوَکِیْل بکثرت پڑھئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ    مشکل آسان ہو گی  ٭ راستے کی چڑھا ئی کی طرف یا سیڑھیوں پرچڑھتے ہوئے نیز بس وغیرہ جب سڑک کی اُونچی جانِب جارہی ہوتو ’’اَللّٰہُ اَکْبَر‘‘ او ر سیڑھیوں یا ڈَھلوان سے اُترتے ہوئے سُبحٰنَ اللہ کہئے٭