Brailvi Books

ابو جہل کی موت
21 - 26
اپنے مقامِ اِقامت مَثَلاً شہریاگاؤں سے باہَرہوگیا۔ خشکی میں سفرپرتین دن کی مَسافت سے مُراد ساڑھے سَتاوَن میل (یعنی تقریباً 92 کِلو میٹر )  کا فاصِلہ ہے(فتاوٰی رضویہمُخَرَّجہ ج ۸ ص۲۴۳،۲۷۰) ٭ شرعی سفر کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سفر کے ضروری پیش آمدہ یعنی سفر میں پیش آنے والے اَحکام سیکھ چکا ہو۔(مکتبۃُ المدینہ کا رسالہ’’ مسافر کی نماز‘‘ کا مُطالَعَہ نہایت مفید ہے)٭ جب سفر کرنا ہو توبہتر یہ ہے کہ پیر ،جمعرات یا ہفتے کو کرے(مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۲۳ ص ۴۰۰) ٭سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے سیِّدُنا جُبَیربِن مُطْعِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو سفر میں اپنے سب رُفَقا سے زیادہ خوشحال رہنے کیلئے روانگی سے قبل یہ وِردپڑھنے کی تلقین فرمائی:{۱} سُورَۃُ  الکفرون{۲} سُورَۃُ  النصر{۳} سُورَۃُ الْاِخْلَاص{۴}  سُورَۃُ  الفلق{۵}  سُورَۃُ  الناس۔ہر سورت ایک ایک بار اور ہر ایک کی ابتِدا میں بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اور سب سے آخِر میں بھی ایک بار بِسمِ اللّٰہ پوری پڑھ لیجئے ، ( اِس طرح سورتیں پانچ ہو ں گی اوربِسمِ اللّٰہ شریف چھ بار)سیِّدُنا جُبَیربِن مُطْعِم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں :میں یوں توصاحبِ مال تھا مگر جب سفر کرتا تو(سب رُفقا سے) بدحال ہو جاتا، مذکورہ سورتیں سفر سے قبل ہمیشہ پڑھنی شروع کیں ان کی بَرَکت سے واپَسی تک خوشحال اور دولت مند رہتا(ابو یعلی ج۶ص۲۶۵حدیث۷۳۸۲)٭ چلتے وقت سب عزیزوں دوستوں سے ملے اور اپنے قُصُورمُعاف کرائے اور اب اُن پر لازِم ہے کہ دل سے مُعاف کردیں (بہارِ شریعت جلد اول ص۱۰۵۲)  ٭لباسِ سفر پہن کر گھر میں چاررَکعت نَفْل اَلْحَمْدُ اور قُلْ(ھُو اللّٰہ کی پوری