Brailvi Books

ابو جہل کی موت
19 - 26
مصائب وآلام اورخون آشام تلواروں تلے بھی مسکراتے رہے ۔
ربِّ کعبہ کے پَرَستار وہ مردانِ جلیل!		پاسبانِ حرم، وارثِ ایمانِ خلیل!
وہ سرِفرشِ زمیں عزّتِ حوّا کا ثُبوت		وہ تہِ چرخِ بریں عَظَمتِ آدم کی دلیل
راست گُفتار وکُشادہ دل وبیدار  دماغ		مدّتُ العمر جو آفات کے سایوں میں پلے
کبھی پابندِ سَلاسِل کبھی شُعلوں کے حَریف	 کبھی اَنگاروں پہ لوٹے کبھی کانٹوں پہ چلے
کبھی تپتے ہوئے پتھّر کی سِلَیں سینوں پر		کبھی کاندھوں پہ اٹھائے ہوئے وہ بارِ گراں
کبھی پُشتوں پہ سَلاخوں کے سلگتے ہوئے داغ 		کبھی چِہروں پہ طمانچوں کے المناک نشاں
کبھی نَیزوں کے سزاوار کبھی تِیروں کے		کبھی طعنوں کے کچوکے کبھی فاقوں سے نڈھال
کبھی چکّی کی مَشَقَّت کبھی تنہائی کی قید		کبھی اپنوں کی ملامت کبھی غیروں کا اُبال
کبھی بُہتان طَرازی، کبھی دُشنامِ غَلیظ		کبھی تضحیک وتَمسخُر،کبھی شُبہات و شکُوک
کبھی روحانی اذیَّت،کبھی توہینِ ضَمیر		کبھی اِینٹوں سے تَواضُع،کبھی کوڑوں کاسُلوک
کبھی مَحبُوس گھروں میں تو کبھی خانہ بدَر		چیتھڑے تن کے نگہبان،کبھی وہ بھی نہیں !
تشنگی کا ہے وہ عالم کہ الٰہی توبہ		حلق کو چاہئے تھوڑی سی نَمی وہ بھی نہیں
آزمائش کے لپکتے ہوئے ہنگاموں میں 		  وقت نے ان کے نشانات قدم دیکھے ہیں
تختۂ دار پہ آئے تو اُسے چوم لیا		ایسے جی دار بھی تاریخ نے کم دیکھے ہیں
کس عَزِیمَت کے تھے مالِک یہ نُفُوسِ قُدسی	جوپڑی وقت کے ہاتھوں وہ کڑی جَھیل گئے
صِرف اسلام کی خاطِر، فَقَط اللہ  کے لئے		جان سے کھیلنا آتا تھا انہیں کھیل گئے
ہم تک اسلام جو پہنچا تو صِرف ان کے طُفیل		 یہ غلامانِ خدا  نورِ رسالت   کے     امیں
سر بسر پیکرِ ایثار، مجسَّم ایماں 		حشر تک ان سا ہو پیدا کوئی ممکِن ہی  نہیں