Brailvi Books

ابو جہل کی موت
18 - 26
 ان کوکم عُمری کی وجہ سے مَنْع فرمادیا۔ حضرتِ سیِّدُناعُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  غَلَبۂ شوق کے سبب رونے لگے،’’جو روتا ہے اُس کا کام ہوتا ہے‘‘کے مِصداق ان کاآرزوئے شہادت میں رونا کام آگیا اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اجازت مرحَمت فرما دی ۔ جنگ میں شریک ہوگئے اوردوسری آرزوبھی پوری ہوگئی کہ اُسی جنگ میں شہادت کی سعادت بھی نصیب ہوگئی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے بڑے بھائی حضر تِ سیِّدُنا سعدبن ابی وَقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  فرماتے ہیں :میرے بھائی عُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  چھو ٹے تھے اور تلوار بڑی تھی لہٰذا میں اس کی حمائل کے تَسموں میں گِرہیں لگاکر اُونچی کرتا تھا ۔  (کتاب المغازی للواقدی ج ۱ ص۲۱)
        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھاآپ نے!چھوٹاہویابڑاراہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں جان قربان کرناہی ان کی زندگی کا مقصدِوحیدتھا،لہٰذاکامیابی خودآگے بڑھ کر ان کے قدم چومتی تھی۔حضرتِ سیِّدُناعُمَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کاجذبۂ جِہاداورشوقِ شہادت آپ نے مُلاحَظہ فرمایا اور بڑے بھائی سیِّدُناسعدابنِ ابی وقّاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  کے تعاوُن کے بارے میں بھی آپ نے سنا۔بیشک آج بھی بڑابھائی اپنے چھوٹے بھائی کااورباپ اپنے بیٹے کا تعاوُن کرتا ہے مگرصِرْف دُنیوی مُعاملات میں اورفَقَط دُنیوی مستقبِل روشن کرنے کی غَرَض سے۔ افسوس!ہمارے پیشِ نظرصِرْف دنیاکی چندروزہ زندَگی کاسِنگھارہے جبکہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی نگاہو ں میں آخِرت کی زندگی کی بہارتھی۔ہم دُنیوی آسائشوں پر نثار ہیں ا و ر وہ اُخروی راحتوں کے طلبگارتھے۔ہم دنیاکی خاطِرہرطرح کی مصیبتیں جَھیلنے کیلئے تیّار رہتے ہیں اوروہ آخِرت کی سُرخروئی کی آرزومیں ہرطرح کی راحتِ دنیا کو ٹھوکر مار کرسخت