اَبرارصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے یارِغار کے اِ س اِیثار کو دیکھ کر استِفسارفرمایا: کیا اپنے گھر بار کے لئے بھی کچھ چھوڑا؟ بَصَد اَدَب واحترام عَرض گزار ہوئے: ’’ ان کے لیے میں اللہ اور اُس کے رسول کو چھوڑ آیا ہوں۔‘‘ (مطلب یہ ہے کہ میرے اور میرے اہل وعیال کے لیے اللہ و رسول کافی ہیں ) (سبل الھدٰی والرشاد فی سیرۃ خیر العباد،ج۵ص۴۳۵)
شاعر نے اِس جذبۂ جاں نثاری کو یوں نَظَم کیا ہے:
اِ تنے میں وہ رفیقِ نُبُوَّت بھی آگیا جس سے بِنائے عشق ومحبت ہے اُستُوار
لے آیا اپنے ساتھ وہ مردِ وَفا سَرِشت ہر چیز جس سے چشْمِ جہاں میں ہو اِعتبار
بولے حُضور، چاہیے فکرِ عِیال بھی کہنے لگا وہ عشق و مَحَبَّت کا راز دار
اے تجھ سے دِیدۂ مَہ واَنجُم فَروغ گِیر اے تیری ذات باعثِ تکوینِ رُوزگار
پروانے کو چَراغ تو بُلبل کو پھول بس
صِدّیق کے لیے ہے خدا کا رَسول بس
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تَعَالٰی علٰی مُحَمَّد
صدِّیقِ اَکبر کی شان اور قرآن
اعلیٰ حضرت،عظیم ُالبَرَکت، مجدِّدِ دین وملّت، امامِ عشق ومَحَبّت الحاج القاری الحافظ شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن نقْل فرماتے ہیں : ’’حضرتِ سیِّدُنا امام فخر الدّین رازی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الھَادِینے’’مَفَاتِیْحُ الغَیْب(تفسیرِکبیر)‘‘ میں فرمایا کہسُوْرَۂ وَالَّیل (حضرتِ سیِّدُنا) ابوبکر ( رضی اللہ تعالٰی عنہ) کی سورۃ ہے اور سُوْرَۂ وَالضُّحٰی (حضرتِ سیِّدُنا)