Brailvi Books

ظلم کا انجام
61 - 62
تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کافرمان عالیشان ہے: ''جب تم کسی بندے کو دیکھو کہ اسے دُنیا سے بے رغبتی اور کم بولنے کی نعمت عطا کی گئی ہے تو اس کی قربت وصحبت اختیار کرو کیونکہ اسے حکمت دی جاتی ہے۔''
(سنن ابن ماجہ،ج۴،ص۴۲۲حدیث ۴۱۰۱)
(10 ) فرمانِ مصطفٰی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم :'' جو چُپ رہا اُس نے نَجات پائی ۔' '
 (سُنَنُ التِّرْمِذِیّ ج۴ ص۲۲۵ حدیث ۲۵۰۹)
 مراٰۃ المناجیح میں ہے :حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں کہ: گفتگو کی چار قسمیں ہیں : (۱) خالِص مُضِر(یعنی مکمَّل طور پر نقصان دِہ) (۲) خالِص مفید(۳) مُضِر (یعنی نقصان دِہ) بھی مفید بھی(۴) نہ مُضِر نہ مفید۔ خالص مُضِر(یعنی مکمَّل نقصان دِہ ) سے ہمیشہ پرہیز ضَروری ہے، خالِص مفید کلام(بات) ضَرور کیجئے ،جو کلام مُضربھی ہومفید بھی اس کے بولنے میں احتیاط کرے بہتر ہے کہ نہ بولے اور چوتھی قسم کے کلام میں وَقت ضائِع کرنا ہے ۔ا ن کلاموں میں امتیاز کرنا مشکل ہے لہٰذا خاموشی بہتر ہے ۔
(مراٰۃ المناجیح ج۶ ص۴۶۴)
 (11)کسی سے جب بات چیت کی جائے تو
Flag Counter