حضرت مسلمہ بن عبد الملک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ وہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے وقت ان کے پاس حاضر ہوئے اور کہا: اے امیر المومنین! آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ سے پہلے کسی نے نہیں کیا۔ آپ نے اولاد چھوڑی ہے لیکن ان کے لئے درہم اور دینار نہیں چھوڑے۔ حالانکہ آپ کے تیرہ بچے تھے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: مجھے بٹھاؤ چنانچہ انہوں نے آپ کو بٹھایا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: تمہارا یہ کہنا کہ میں نے ان کے لئے درہم اور دینار نہیں چھوڑے تو میں نے ان کا حق نہیں روکا لیکن دوسروں کا حق ان کو نہیں دیا اور میری اولاد کی دو حالتیں ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی اِطاعت کریں گے تو وہ ان کو کفایت کریگا کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو کفایت کرتا ہے اور اگر وہ نافرمان ہوں گے تو مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔۱؎
ایک روایت میں ہے کہ حضرت کعب قرظی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بہت سا مال ملا تو ان سے کہا گیا: اچھا ہوتا اگر آپ اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے جمع رکھتے۔ انہوں نے فرمایا: نہیں بلکہ میں اسے اپنے لئے اپنے رب عزوجل کے پاس جمع کروں گا اوراپنی اولاد کے معاملہ میں اپنے رب عزوجل پر توکل کروں گا۔۲؎
طبرانی کی ایک حدیث میں ہے :