| ضیائے صدقات |
عَنْ بَھْزِ بْنِ حَکِيم عَنْ أَبِيہ عَنْ جَدِّہِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ: يا رَسُوْلَ اللہِ مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ''أُمَّکَ، ثُمَّ أُمَّکَ، ثُمَّ أُمَّکَ، ثُمَّ أَبَاکَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ''.۱؎
صلہ رحمی کرتے رہنا، ہمیشہ اللہ کی راہ ميں جہاد کرتے رہنا، پانی کے اسراف کے بغير ہمیشہ باوضو رہنا، اور ہمیشہ والدين کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔۲؎
يوں ہی اہلِ قرابت رشتہ دار کے ساتھ استطاعت ہوتے ہوئے، بخل کرنے پر وعيد ہے، چنانچہ:عَنْ جَرِير بْنِ عَبْدِ اللہِ الْبَجَلِيِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ''مَا مِنْ ذِيْ رَحِمٍ
پانچ چيزيں ايسی ہيں جن کی ہمیشگی بندے کی نيکيوں ميں اضافے کا سبب ہے، ہمیشہ کم يا زيادہ صدقہ کرتے رہنا، ہمیشہ تھوڑی يا زيادہ حضرت جرير بن عبد اللہ بَجَلِیّ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہيں،شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمايا: جو اپنے اہل قرابت رشتہ دار سے اس کے ضرورت سے زائد
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ ۱؎ (سنن الترمذي،کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في بر الوالدين،الحديث: ۱۸۹۷،ج۳،ص۶۱) ۲؎ (تنبيہ الغافلين، ص۷۱)