Brailvi Books

ضیائے صدقات
404 - 408
اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیۡنَۃً لَّہَا لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ﴿۷﴾
ترجمہ کنزالایمان: بیشک ہم نے زمين پر سنگار کيا جو کچھ اس پر ہے کہ انہيں آزمائيں ان ميں سے کس کے کام بہتر ہيں۔(الکہف:۱۸/۷)

    اور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا:
لَا حَقَّ لِإِبْنِ آدَمَ إِلَّا فِيْ ثَلَاثٍ: طَعَامٍ يقيم صُلْبَہُ وَثَوْبٍ يوارِيْ عَوْرَتَہُ وَبَيت يسکِنُہُ فَمَا زَادَ فَھُوَ حِسَابٌ. (جامع الترمذي: أبواب الزھد)
انسان کا حق صرف تين چيزوں ميں ہے کھانا جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھے اورلباس جو اس کے ستر کو چھپائے اور گھر جو اسے پناہ دے توجو کچھ اس سے زائد ہے اس کا حساب ہوگا۔

    پس جو کچھ تم ان تين چيزوں ميں سے حاجت کے مطابق لوگے اس پر تمہيں ثواب ہوگا اور جو اس سے زائد لوگے اس کی دو صورتيں ہيں اگر تم نے اس ميں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہيں کی تو وہ حساب کے لئے پیش ہوگا اور اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے مال حاصل کيا ہے تو تمہيں عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔۱؎
وَصَلَّی اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی عَلٰی خَير خَلْقِہِ وَنُوْرِ عَرْشِہِ سَیدِنَا وَمَولَانَا وَمَلْجَانَا وَمَأوٰنَا مُحَمِّدٍ وَآلِہِ وَأَصْحَابِہِ أَجْمَعِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِ الْعَالَمِينَ.
مدینــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

؎۱(إحياء علوم الدين،کتاب الفقر والزھد،بيان آداب الفقير وقبول العطاء إذا جاء بغيرسؤال،ج۴،ص۲۷۹)
Flag Counter