ذِہن میں کُفر یہ خیالات آنا
سوال:اُس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو کہتا ہے کہ پریشانی کے عالم میں میرے ذِہن میں کفریہ خیالات آتے رہتے ہیں ۔
جواب:ذِہن میں کُفْرِیَّہ خیالات کا آنااور انہیں بیان کرنے کو بُرا سمجھنا عیناِیمان کی علامت ہے کیونکہ کفریہ وساوس شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور وہ لَعین مردود چاہتا ہے کہ مسلمان سے ایمان کی دولت چھین لے ۔ نبیِّ رَحمت، شفیعِ اُمّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ سراپا عظمت میں بعض صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضوان نے حاضِر ہو کر عرض کی: ہمیں ایسے خیالات آتے ہیں کہ جنہیں بَیان کرنا ہم بَہُت بُرا سمجھتے ہیں ۔ سرکارِدو عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: کیاواقعی ایسا ہوتا ہے؟ اُنہوں نے عرض کی: جی ہاں ۔ ارشاد فرمایا: ’’یہ توخالص ایمان کی نشانی ہے۔‘‘ (صَحیح مُسلِم ص۸۰حدیث ۱۳۲ )
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں :’’ کفری بات کا دل میں خیال پیدا ہوا اورزَبان سے بولنا بُرا جانتا ہے تو یہ کفر نہیں بلکہ خاص اِیمان کی عَلامَت ہے کہ دِل میں اِیمان نہ ہوتا تو اسے بُراکیوں جانتا۔‘‘ (بہارِشریعت جلد2 حصّہ ۹ ص ۴۵۶مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی)
سُوال: اگرکسی کے سامنے تذکرہ کیاکہ مجھے فُلاں فُلاں کفریہ وسوسے آتے ہیں ، میں ان سے تنگ ہوں ، مجھے کوئی علاج بتایئے۔ کیا اِس صورت میں بھی حکمکفر ہے؟
جواب:نہیں ،اِس صورت میں حکمِ کفر نہیں ۔ (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ص۴۲۳۔ ۴۲۴)