Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
57 - 59
 رات دن گناہوں میں پڑا رہے ایسا شخص تو گویاشیطان کا دوست ہے اور شیطان اپنے دوستوں کے پاس سے اتنی آسانی سے بھاگے ایسا کہاں ہے ! پارہ  17سورۂ حج آیت نمبر 4میں ارشاد ہو تا ہے: 
كُتِبَ عَلَیْهِ اَنَّهٗ مَنْ تَوَلَّاهُ فَاَنَّهٗ یُضِلُّهٗ وَ یَهْدِیْهِ اِلٰى عَذَابِ السَّعِیْرِ(۴)
ترجَمۂ کنزالایمان: جس پر لکھ دیا گیا ہے کہ جو اس کی دوستی کرے گا تو یہ ضَرور اُسے گمراہ کردے گا اور اسے عذابِ دوزخ کی راہ بتائے گا ۔
	حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں :حقیقتِ ذکر دل میں اُسی وقت جاگزیں ہوتی ہے جب دل کو تقوے کے ذَرِیعے آباد کیا جائے نیز اس کو بُری صِفات سے پا ک کر دیا جائے ورنہ ذِکرمَحض آنے جانے والی بات ہو گی دل پر اس(یعنی ذِکر) کی سلطنت اور قبضہ نہیں ہو سکتا لہٰذا وہ شیطان کی حُکومت کو دُور نہیں کر سکتا۔مزید فرماتے ہیں : اگر تم شیطان سے بچنا چاہتے ہو تو پہلے تقوے کے ذَرِیعے پرہیزگاری اختیار کرو پھر ذِکر کی دوا استِعمال کرو یوں شیطان تم سے بھاگ جائے گا۔	(  اِحیاءُ  الْعُلوم ج ۳ص۴۵،۴۷)
نفس و شیطان ہوگئے غالب	ان کے چُنگل سے تُو چُھڑا یاربّ
کر کے توبہ میں پھر گناہوں میں 	ہو ہی جاتا ہوں مُبتَلا یاربّ
نِیم جاں کر دیا گناہوں نے 
مرضِ عصیاں سے دے شِفا یاربّ
			اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم