کے باوُجُود بارہا دُعا کی قَبولیَّت کے آثار ظاہر نہیں ہوتے، تو معلوم ہوا کہ ذکر کے ذَرِیعے شیطان کو بھگانے اور دُعائیں قَبول ہونے میں کچھ شرائط بھی ہیں ، جیسا کہ دواؤں کا مُعامَلہ ہے کہ پرہیزی نہ کرے تو دو ا کام نہیں دکھاتی مَثَلاً کسی کو ’’ شُوگر‘‘ کا مَرَض ہو جائے ، پھر بھی مٹھائیاں کھائے چلا جائے تو دوا کیا کرے گی! لہٰذا ذِکرسے وسوسوں سے نَجات پانے اور شیطان کو بھگانے کیلئے گُناہوں سے پرہیزی ضَروری ہے اگر تقویٰ نہ اپنایا جائے تو ذِکرنُما دوا کا وسوسوں کے مَرَض پر کارآمد ہونا دشوار ہے!حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں :شیطان بھوکے کتّے کی مِثل ہے جو تمہارے قریب آتا ہے اگر تمہارے اور اس کے درمیان روٹی یا گوشت نہ ہو تو دھتکارنے سے ہی چلا جاتا ہے یعنی محض آواز ہی سے اسے بھگایا جاسکتا ہے اور اگر تمہارے سامنے گوشت ہو اور وہ بھوکا بھی ہو تو وہ گوشت پر جھپٹتا ہے اورمَحض زَبانی دُھتکار سے دُور نہیں ہوتا ۔ توجو دل شیطان کی غذا سے خالی ہو اُس دل سے ذِکر کے ذَریعے شیطان دُور ہو جاتا ہے ، جب دل پرشَہوت غالِب ہوتو دل کا اندونی حصّہ شیطان کے قابو میں ہو گا اور وہ اُس وقت کئے جانے والے ذِکرُ اللہ کو دل کے ارد گرد پھیلادے گا۔ لیکن جہاں تک مُتَّقی لوگوں کے دل کا تعلُّق ہے جو نفسانی خواہِشات اور بُری صِفات سے خالی ہوتے ہیں ان پر شیطان ، شہوتوں کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ غفلت کی وجہ سے ذکر سے خالی ہونے کے باعِث آجاتا ہے جب وہ ذِکر کی طرف لوٹتے ہیں تو وہ دُور ہو جاتا ہے۔(مُلَخَّص از اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ص۴۵) بَہَرحال جو