Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
55 - 59
 بَھونکنے والے کُتّے کی مانند ہے، اگر تم اس کو چھیڑو گے تو زیادہ شور مچائے گا اور اگر اعراض کرو گے(یعنی اس کے وسوسوں کی طرف توجُّہ نہ دو گے) تو وہ بھی خاموش ہو جائیگا {۳} ذِکرِ الہٰی کی کثرت کرو۔ ( مِنہاجُ العابِدین(عربی) ص۴۶) 
ذکر سے شیطان کی تکلیف کی کیفیت
	منقول ہے:شیطٰن کیلئے ذِکرُ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ    اتنا تکلیف دِہ ہے جیسے کہ انسان کے پہلو میں آکِلَہ ۔ (مِنْھاجُ الْعابِدِین ص۴۶)  مَرَضِ آکِلہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے گوشت پوست کو مُتَأَثِّر کرتی ہے اور جسم سے گوشت خود بخود جُدا ہونا شروع ہوجاتاہے۔
اِمتحاں کے کہاں قابل ہوں میں پیار ے اللہ
بے سبب بخش دے مولیٰ تِرا کیا جاتا ہے(وسائلِ بخشش ص۷۲ )
						اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
وسوسہ: بارہا ذِکرُ اللہ  کرنے کے باوُجُود شیطان کے وَسوسے نہیں جاتے۔ مَثَلاً نماز سب سے بڑا ذِکر ہے لیکن نماز میں تو بَہُت زیادہ وسوسے آتے ہیں ، یہاں تک کہ بُھولی باتیں بھی شیطان یاد دلادیتا ہے!
	وسوسے کا علاج: بے شک ذکر سے شیطان بھاگتا ہے اور یقینا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   دعا قبول فرماتا ہے جیسا کہ قراٰن پاک  سُورۂ مُؤمِن آیت نمبر 60میں ارشاد ہوتا ہے: اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ- ترجَمۂ کنزالایمان:’’مجھ سے دعا کرو میں قَبول کروں گا۔‘‘اِس