Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
54 - 59
الوالی نے جو کچھ فرمایااس کاخُلاصہ ہے: اگرآپ یہ محسوس کریں کہ شیطان ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ   سے پناہ مانگنے کے باوُجُودپیچھا نہیں چھوڑرہا اور غالب آنے کی کوشش میں ہے تو اِس کا مطلب یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ    کوآپ کے مُجاہَدے،  قُوَّت اور صبر کا اِمتحان مَطُلوب ہے، یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ   آزمارہا ہے کہ آپ شیطان سے مقابَلہ اور مُحارَبہ(یعنی جنگ) کرتے ہیں یا اس سے مَغلوب ہو(یعنی ہار)جاتے ہیں ۔ دیکھئے نا! اُس نے ہم پرکُفّار وغیرہ کو بھی تومُسلّط کرہی رکھا ہے حالانکہ وہ اس پریقینا قادِر ہے کہ ہمارے جِہاد وغیرہ کے بِغیر ہی اُن کی شرارتوں اور فتِنوں کو کُچل دے ، لیکن وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ بندوں کو ان سے جِہاد کا حُکم فرماتا ہے، تاکہ آزمائے کہ کس کے دل میں جذبۂ جِہاد اور شہادت کی تڑپ ہے اور کون پورے خُلوص اور صَبْر سے اِن کا مقابلہ کرتا ہے۔ آگے چل کر سیِّدُنا امام محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی مزید فرماتے ہیں : تو اِسی طرح شیطان کے مقابلے میں بھی ہمیں چُستی اور پوری کوشش کاحکم دیا گیا ہے۔ پھر ہمارے عُلَمائے کرام(رَحِمَہُمُ اللہ  السّلام) نے فرمایا ہے کہ شیطان سے مقابلہ کرنے اور اِس پر قابو پانے کیلئے تین چیزیں ضَروری ہیں {۱} تم اس کے حیلے اور چالاکیاں معلوم کرو اور پہچانو، جب اِس کا عِلم ہو جائے گا تو پھر وہ تم کو نقصان نہیں پہنچاسکے گا ، جیساکہ چور کو جب پتا چل جائے کہ صاحِبِ مکان کو میرا عِلم ہو گیا ہے تو وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے{۲} تم شیطان کی گمراہ کُن اور گناہوں بھری دعوت ہرگز منظور نہ کرو، تمہارا دل قَطعاً اس کی دعوت کا اثر نہ لے نیز تم اس کے مقابلے کی طرف توجُّہ بھی نہ دو، کیونکہ ابلیس ایک