وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ(۲۰) }(پ۱۳ ابراہیم آیت۱۹،۲۰)کی کثرت اسے یعنی وَسوسے کو جڑ سے قَطْع کر(یعنی کاٹ) دیتی ہے۔(مُلَخَّص ازفتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۱ ص ۷۷۰) (اِس دعا کے حصۂ آیت کو آپ کی معلومات کیلئے مُنَقَّش ہلالین اور رسمُ الخط کی تبدیلی کے ذَرِیعے واضِح کیا ہے)
(۸) مُفَسِّرِ شَہِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمفتی احمد یارخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنّان فرماتے ہیں : ’’صُوفیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ جو کوئی صبح شام اِکّیس اِکّیس بار ’’لاحَول شریف‘‘پانی پر دم کرکے پی لیا کرے تو اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ وسوسۂ شیطانی سے بَہُت حد تک اَمن میں رہے گا ۔‘‘(مراٰۃالمناجیحج۱ ص۸۷ )
مُحیط دل پہ ہوا ہائے نفسِ اَمّارہ دِماغ پر مرے ابلیس چھا گیا یاربّ
رِہائی مجھ کو ملے کاش! نفس و شیطاں سے
ترے حبیب کادیتا ہوں واسِطہ یاربّ(وسائلِ بخشش ص ۵۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اگر وَسْوَسے کسی صُورت نہ جائیں تو …
اگر وَظائف و اعمال سے شیطان کے وَسوسوں سے چھٹکارا نہ ہو تو گھبرانے کی ضَرورت نہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ مِنہاجُ العابِدین میں حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ