Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
51 - 59
 وَسوسوں پر توجُّہ مت دیجئے
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!’’وسوسوں ‘‘ کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ اس کی طرف سے توجُّہ ہٹادی جائے۔ کاش! کہ ایسا ہو جایا کرے کہ جُوں ہی وَسوَسہ آئے ہم تصوُّر ہی تصوُّر میں مکّۂ مکرَّمہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کی حسین وادیوں میں گم ہو جائیں ، مسجدُ الحرام شریف میں حاضِر ہو کر خوب خوب حَجَرِ اسود کو چومنے اور جھوم جھوم کر کعبۂ مُشَرَّفہ کے گِرد گھومنے میں مشغول ہو جائیں ۔ کاش! کاش! کاش! میٹھے مدینے کی حسین یادوں میں کھو جائیں ،سوہنے موہنے مدینے کے حَسین ودلکش نظّاروں میں گم ہو جائیں ، کبھی مدینے کے دل رُبا کانٹوں کے تو کبھی وہاں کے خوشنُما پھولوں کے تصوُّر میں ڈوب جائیں ۔ کبھی مدینے کی خوبصورت وادیوں کے تو کبھی مدینے کی نورانی گلیوں کے حُسن میں مست ہو جائیں ۔ کبھی مدینے کے دل کُشا پہاڑوں کی، تو کبھی صحرائے مدینہ کی بہاروں کی یادوں میں خود کو گُمائیں ، کبھی مدینے کی پاکیزہ فَضاؤں کا تو کبھی مہکی مہکی ہواؤں کا تصوُّرہی تصوُّر میں لُطف اُٹھائیں ۔ کبھی سبز سبز گنبد کے حسین نظاروں کا تو کبھی سُنہری جالیوں پر با ادب حاضِری کا تصوُّرجمائیں اور اگر شوق ساتھ دے توشَہَنْشاہِ خوش خصال، پیکرِ حُسن وجمال،دافِعِ رنج و مَلال، صاحِبِ جُودونَوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے لال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حسین تصوُّر کرلیا کریں ۔ اے کاش ! ہمیں مدینے اور مدینے والے آقا