ذِکر کے ذَرِیعے مجھے پگھلاتے رہتے ہو۔ ( اِحیاءُ الْعُلوم ج ۳ ص ۳۷) بہرحال یادِ الہٰی سے غفلت اچّھی چیز نہیں ۔
شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے
حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوالی فرماتے ہیں : شیطان انسان کے دل پربیٹھا رہتا ہے،جب بندہ ذِ کرُ اللہ سے غافل ہوجاتا ہے توشیطان وَسوَسے ڈالتا ہے اور جب انسان اللہ عَزَّ وَجَلَّ َ کاذِکر کرتا ہے توشیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے۔(مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج۹ص۳۹۲)
ذِکر اور وسوسوں کے درمیان جنگ
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوالی فرماتے ہیں :حضرتِ سیِّدُنا مجاہد علیہِ رَحمۃُ اللہ الواحِد نے اس ارشاد خداوندی:
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ﳔ الْخَنَّاسِﭪ(۴)(پ۳۰،النّاس۴)
ترجَمۂ کنزالایمان: اس کے شر سے جو دل میں بُرے خطرے ڈالے اور دبک رہے۔
کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ (شیطان) دل پر چھایا ہوا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے تو وہ سکڑ جاتا ہے، جب غافِل ہوتا ہے تو وہ اس کے دل پر پھیل جاتاہے تو اللہ تعالیٰ کیذِکر اور شیطان کے وسوسے کے درمیان جنگ اسی طرح جاری ہے جس طرح روشنی اور اندھیرے نیز رات اور دن کے درمیان لڑائی جاری ہے یہ دونوں یعنی ذِکرووسوسہ ایک