Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
48 - 59
 ہے،جس کے اندر باہَر سب آر پار نظر آرہا ہے، اُس کے کاندھے اور کان کے درمیان شیطان مینڈک کی شکل میں بیٹھ کر اپنی طویل باریک سُونڈ کو کاندھے سے اس کے دل تک داخل کئے وسوسے ڈال رہا ہے،جب جب وہ آدمی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کا ذِکر کرتا ہے ، شیطان پیچھے ہٹ جاتاہے۔ (مُکاشَفَۃُ القُلوب ص۵۹)
سرکارکا کوئی لمحہ ذِکرُاللہ  سے خالی نہ ہوتا 
 	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!معلوم ہوا کہ ذِکرُاللہ   وَسوَسوں کا بہترین علاج ہے کیوں کہ شیطان ذِکرِ الہٰی  عَزَّ وَجَلَّ سے دُور بھاگتا ہے، ہمارے میٹھے میٹھے آقا، مکّی مَدَنی مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کوئی لمحہ کوئی سانسذِکرُاللہ  سے خالی نہ جاتا تھا، ہمیں جب جب موقع ملے بِلاضَرورت منہ بند کئے رہنے کے بجائے ’’ اللہ  اللہ ‘‘کرتے یا دُرُود شریف پڑھتے رہنا چاہئے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ اس طرح ثواب کا ’’میٹر ‘‘چلتا رہے گا۔ اور شیطان بھی کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جائے گا ۔     (  اِحیاءُ  الْعُلوم ج ۳ص۳۷)
شیطان کا پگھل کر چڑیا کی طرح ہو جانا
	حُجَّۃُ الْاِسلام حضرت سیِّدُنا امام محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نقل کرتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا قیس بن حَجّاج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : میرے شیطان (ہمزاد) نے مجھ سے کہا: میں جب تمہارے اندر داخِل ہوا تو اُونٹ کی طرح ( طاقتور) تھا اور اب چِڑیا کی طرح( کمزور) ہوں ۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ کہنے لگا: تماللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے