Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
46 - 59
 وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب یہ دے دو کہ’’ تو جھوٹا ہے‘‘ نہ یہ کہ تم آپ دوڑ دوڑ کے ان(کافروں یا بے دینوں اور بدمذہبوں ) کے پاس جاؤ اور اپنے رب جَلَّ وَ عَلا اپنے قراٰن اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں کلماتِ مَلعونہ سُنو۔(اعلیٰ حضرت آگے چل کر مزید فرماتے ہیں :) (پارہ8 سورۃ الانعام کی آیت نمبر112میں ارشاد فرماتا ہے) وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ(۱۱۲) ترجَمہ:’’اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی با تیں نہ بناتے پھرتے تو انھیں اور اُن کے بہتانوں کو یک لخت چھوڑ دے۔‘‘ دیکھو انھیں اور اُن کی باتوں کو چھوڑ نے کا حکم فرمایا ،یا اُن پاس سُننے کے لیے دوڑنے کا۔ اور سُنئے اس کے بعد کی(سورۃُ الْاَنعامکی) آیت(113) میں فرماتا ہے : وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ(۱۱۳) (ترجَمہ: اور اس لیے کہ اُن کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخِرت پر ایمان نہیں اور اُسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں )دیکھواُن کی باتوں کی طرف کان لگانا اُن کاکام بتایا جو آخِرت پر ایمان نہیں رکھتے  اور اس کانتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی اُن جیسے ہو جائیں       وَ الْعِیاذ بِاللہ  تعالٰی(یعنی اور وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْـٕدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ(۱۱۳) کی اِس سے پناہ)۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر اُن کا کیا اثر ہو گا! حالانکہ رسولُ اللہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  فرماتے ہیں : جو دجّال کی خبر سُنے اس پر واجِب ہے کہ اُس سے دور بھاگے کہ خدا کی قسم! آدمی اُس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تو مسلمان ہوں یعنی مجھے