شیطان آدَمی
حدیثِپاک میں بھی ہے کہ ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرتِ سیِّدُنا ابوذَر غِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگ شیطان آدَمیوں اور شیطان جِنّوں کے شَر سے۔عرض کی: کیا آدَمیوں میں بھی شیطان ہیں ؟ فرمایا : ہاں ۔ (مُسندِ اِمام احمد ج۸ص۱۳۰حدیث۲۱۶۰۲)چُنانچِہ جتنے کافر، مُشرک ، گمراہ ، بدمذہب اور گستاخانِ رسول ہیں وہ سب کے سب شَیاطینُ الْاِنس (یعنی شیطان آدمیوں )میں داخِل ہیں اور ابلیس کے ساتھ ساتھ اُن کے شَر سے بھی ہمیں پناہ مانگتے رَہنا چاہیے، مگر افسوس !بَہُت سے مسلمان ان سے خوب مَیل جول رکھتے ہیں اور ان کی گفتگو بھی خوب توجُّہ سے سُنتے ہیں ۔ ان کے مذہبی پروگراموں میں بھی شریک ہوتے ہیں ، ان کا لٹریچر بھی پڑھتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ پھر اپنے دین سے ناواقِفِیَّت کی بِنا پر شک و شُبہے میں پڑ جاتے ہیں کہ آیا وہ صحیح ہیں یا ہم ؟ اور پھر بعض تو ان کے جال میں اس قَدَر پھنس جاتے ہیں کہ انہیں کے گُن گانے لگتے ہیں اور یہاں تک کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ’’یہ بھی تو صحیح کہہ رہے ہیں !‘‘ میرے آقااعلیٰ حضرت ،اما مِ اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوٰی رضویہ جلد اوّل صفحہ 781تا782پرایسوں سے بچنے کی تاکید کرتے ہوئے فرماتے ہیں : بھائیو! تم اپنے نفع نقصان کو زیادہ جانتے ہو یا تمہارا رب عَزَّ وَجَلَّ تمہارے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، اُن کا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس