Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
44 - 59
دِل پہ شیطان نے آقا ہے جمایا قبضہ		ہُوں گناہوں میں گرفتار رسولِ عَرَبی
آہ !بڑھتا ہی چلا جاتا ہے مرضِ عصیاں 		دو شِفا سیّدِابرار رسولِ عَرَبی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
 شیطان کی دو قسمیں 
	یہ تو تھا ’’شَیاطینُ الْجِنّ‘‘کے وَسوسوں کا بیان۔اِسی طرح ’’شیاطینُ الْاِنْس‘‘ یعنی ’’شیطان آدَمی‘‘بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے اور دلوں میں شُکُوک وشُبُہات ڈالتے ہیں ۔جیسا کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن  کے فرمان کا خلاصہ ہے:  شیاطین کی دو قسمیں ہیں :(۱) شیاطِینُ الْجِنّ یعنی ابلیسِ لعین اور اس کی اولاد (۲) شیاطینُ الْاِنْس یعنی کُفّارو مُبْتَدِعِین(یعنی بدمذہبوں ) کے داعی و مُنادی(یعنی کفرو گمراہی کی دعوت دینے والے اور اس طرف بلانے والے ) ۔ مزید فرماتے ہیں :آئمۂ دین فرمایا کرتے کہ’’ شیطان آدمی ،شیطان جِنّ سے سخت تَر ہوتا ہے۔‘‘ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۱ص۷۸۰،۷۸۱ )
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ   نے سورۃُ النّاس میں ان دونوں قسم کے شیاطین سے پناہ مانگنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچِہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِۙ(۵)مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ۠(۶)
ترجَمۂ کنزالایمان:وہ جو لوگوں کے دلوں میں وَسوسے ڈالتے ہیں جِنّ اور آدمی ۔