اہلِسنّت مجدِّدِ دین وملّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوٰی رضویہ جلد 4 صَفْحَہ 528تا529پرفرماتے ہیں :حُجَّۃُ الْاِسلام ،حکیمُ الْاُمّہ،کاشِفُ الْغُمَّہ امام ابو حامد محمدبن محمدبن محمد غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اِحیاء العلوم شریف میں فرمایا: میں کہتا ہوں ( جس کو دعوت دی گئی) اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس ( داعی) سے سُوال کرے بلکہ وہ تقویٰ اختیار کرنا چاہتا ہے تو نرمی کے ساتھ چھوڑ دے اور اگر (دعوت میں ) جانا ضَروری ہے تو پوچھے بِغیر کھائے کیونکہ سُوال کرنے میں اِیذا رسانی ، پردہ دری اور وحشت پیدا کرنا ہے اور یہ بلا شُبہ حرام ہے۔( امام غزالی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ آگے چل کر مزید فرماتے ہیں :)اورکتنے ہی جاہل زاہد ہیں جو تفتیش کے ذَرِیعے دلوں میں وحشت پیدا کرتے ہیں اور نہایت سخت اور ایذا رساں کلام استعمال کرتے ہیں درحقیقت شیطان ان کی نظروں میں اسے اچّھا قرار دیتا ہے تا کہ وہ حلال خور مشہور ہوں ، اور اگر اس کا باعث محض دین ہو تو اپنے پیٹ میں شبہ والی چیز داخل کرنے کے ڈر سے زیادہ خوف مسلمان کے دل کو ایذا دینے کا ہوتا کیونکہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس پر مُوَاخَذہ(یعنی پوچھ گچھ کا معاملہ) نہیں ہوگا ۔ جب کہ وہاں ایسی علامت نہ ہو جس کی وجہ سے اجتِناب(یعنی بچنا) لازم ہوتا ہے۔ تو جان لو! پرہیزگاری ترکِ سُوال میں ہے َتجَسُّس میں نہیں اور اگر کھانا ضروری ہو تو کھا لے اور اچّھا گُمان کرنے میں پرہیز گاری ہے۔ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۲ص۱۵۰)