Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
42 - 59
 ساتھ شیطان کو بھی قسم کھا کر کہدے کہ َاو مردود! دَفع ہو،خدا کی قسم! میں نے اپنی عورت کوطَلَاق نہیں دی)(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج اص ۷۸۵)  
پریشانیاں وسوسوں کی خدایا
تو کر دور بہرِ رضا یا الٰہی
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
 کوئی کھِلائے تو تحقیق  مت کیجئے
	بعض اوقات کھانے کی دعوت کے موقع پر بھی انسان وَسوسے میں پڑ جاتا ہے کہ نہ جانے اِس کا کھانا حلال مال کا ہے یا حرام کا؟ اِس بارے میں حدیثِ پاک میں محبوبِ ربُّ العِباد   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کاارشادِ گرامی ہے: جب تم میں سے کوئی اپنے مسلمان بھائی کے یہاں جائے اور وہ اسے اپنے کھانے میں سے کِھلائے تو کھالے اور اس کے بارے میں سُوال نہ کرے اور اگر وہ اپنے مشروب (پینے کی چیز)سے پلائے تو پی لے اوراُس کے بارے میں کچھ نہ پوچھے۔ (شُعَبُ الْاِیمان ج۵ ص۶۷ حدیث۵۸۰۱)
کھانے کے بارے میں تحقیق سے گناہوں کا دروازہ کھل سکتا ہے
	سُبْحٰنَ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ کتنی آسانی ہے۔ کاش! ہمیں دینی معلومات ہوتیں کہ عِلم دین بھی ’’وسوسوں ‘‘کی جَڑ کاٹنے کا ذریعہ (ذَری ۔عَہ)ہے۔ افسوس !ہم دین سے ناواقِفِیَّت کی بِنا پر بھی اکثر شیطان کے وسوسوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔میرے آقااعلیٰ حضرت امامِ