بُزرگ کو مسئلہ معلوم ہے کہ راستے کی کیچڑ اُس وَقت تک نَجِس قرار نہیں دی جاسکتی جب تک اُس کا ناپاک ہوناقَطْعی(یعنی یقینی) طور پر معلوم نہ ہو لہٰذا اُنہوں نے وَسوسے کا خوب علاج فرما لیا !دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ، ’’ کپڑے پاک کرنے کا طریقہ‘‘میں ہے:راستے کی کیچڑ (چاہے بارش کی ہو یا کوئی اور ) پاک ہے جب تک اس کا نَجِسہونا معلوم نہ ہو، تو اگر پاؤں یا کپڑے میں لگی اور بے دھوئے نَماز پڑھ لی ہو گئی مگر دھو لینا بہتر ہے۔ (بہارِ شریعت جلد اول ص ۳۹۴)
چادر کا کون سا کونانا پاک تھا یہ یاد نہ ہوتو؟
کبھی لباس پر نَجاست لگ جائے اور پتا نہ چلے کہ کہاں لگی تھی تو بھی آدمی وسوسوں کاشِکار ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں بھی شریعتِ مُطَہَّرہ نے ہمیں بَہُت آسانی دی ہے۔ چُنانچِہ فتاوٰی رضویہ شریف میں ہے کہ چادر کا ایک گوشہ (یعنی کونا)یقیناً ناپاک تھا اور تَعْیِین یاد نہ رہے ( یعنی یہ یاد نہ ہو کہ کون ساکونا ناپاک تھا) تو کوئی سا کونا دھوئے، پاکی کا حکم دیں گے ۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۴ص ۵۱۱)
بچّہ پانی میں ہاتھ ڈال دے تو؟
بعض اوقات بچّہ پانی میں ہاتھ ڈال دیتا ہے، تو آدمی شک میں پڑ جاتا ہے کہ پانی پاک رہا یا ناپاک ہو گیا! اس مُعامَلے میں بھی شک میں پڑنے کی ضَرورت نہیں کیونکہ فُقَہائے کرام (رَحِمَہُمُ اللہ السّلام )حُکم دیتے ہیں :’’ جس پانی میں بچّہ ہاتھ یاپاؤں ڈال دے،