ہاتھی،گِیدڑ اور دوسرے دَرِندوں کا جھوٹا ناپاک ہے۔‘‘ ضِمناً ’’پنجتن پاک‘‘ کے آٹھ حُرُوف کی نسبت سے جانور وں کے جھوٹے سے مُتَعلِّق مزید8 مَدَنی پھول بھی مُلا حَظہ کر لیجئے اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا و آخِرت کا نفع ملیگا {1} جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے چوپائے ہوں یا پرند ان کا جھوٹا’’ پاک‘‘ ہے اگرچِہ نر ہوں جیسے گائے، بیل، بھینس، بکری، کبوتر، تیتر وغیرہ{2}جو مرغی چُھوٹی پِھرتی اور غلیظ(یعنی گندگی) پر منہ ڈالتی ہو اس کا جھوٹا مکروہ ہے اور بند رہتی ہو تو پاک ہے {3} یوہیں بعض گائیں جن کی عادت غَلیظ (یعنی گندگی)کھانے کی ہوتی ہے ان کا جھوٹا مکروہ ہے اور اگر ابھی نَجاست کھائی اور اس کے بعد کوئی ایسی بات نہ پائی گئی جس سے اس کے منہ کی طہارت ہو جائے اور اس حالت میں (اگر ٹھہرے یعنی دہ در دہ سے کم )پانی میں منہ ڈال دیا تو ناپاک ہو گیا ۔ (اور اگر جاری پانی میں منہ ڈالکر پانی پیا تو منہ پاک ہو جائے گا) اسی طرح اگر بیل، بھینسے، بکرے نروں نے حسبِ عادت مادہ کا پیشاب سُونگھا اور اس سے ان کامنہ ناپاک ہوا اور نگاہ سے غائب نہ ہوئے نہ اتنی دیر گزری جس میں طہارت ہو جاتی تو ان کا جھوٹا ناپاک ہے اور اگر چار(ٹھہرے) پانیوں میں منہ ڈالیں تو پہلے تین ناپاک چوتھا پاک{4} گھوڑے کا جھوٹا پاک ہے {5} گھر میں رہنے والے جانور جیسے بلّی، چوہا، سانپ، چھپکلی کا جھوٹا مکروہ ہے {6} بلّی نے چوہا کھایا اور فوراً برتن میں منہ ڈال دیا تو ناپاک ہو گیا اور اگر زبان سے منہ چاٹ لیا کہ خون کا اثر جاتا رہا تو ناپاک نہیں {7}اچّھا پانی ہوتے ہوئے مکروہ پانی سے وُضو و