Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
37 - 59
 ضَرورت نہیں ۔ 
نَجاست کے بارے میں تحقیق کی حاجت نہیں 
	میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوٰی رضویہ جلد 4صَفْحَہ515 پرنَقل کرتے ہیں :امیرُ المومنین حضرتِ سیّدُنا عُمرِ فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک حوض پر گزرے (وہ حَوض دَہ دردَہ سے چھوٹا تھا اور ٹھہرے پانی کے حکم میں تھا اور ٹھہرے پانی میں سے اگر درندہ پانی پی لے تو وہ ناپاک ہوجاتا ہے) عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ( جو کہ )ساتھ تھے۔( وہ ) حَوض والے سے پوچھنے لگے:کیا تیرے حَوض میں دَرِندے بھی پانی پیتے ہیں ؟( امیرُ المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے) فرمایا :’’ اے حَوض والے ! ہمیں نہ بتا۔‘‘  (مُؤَطَّا امامِ مالک ج۱ص۴۸ رقم۴۷)
جانوروں کے جھوٹے کے مُتَعلِّق مَدَنی پھول
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے!نجاست کی تحقیق میں پڑنے کی حاجت نہیں حالانکہ یہ امکان ہوتا ہے کہ حَوض میں دَرِندے مَثَلاً کُتّے بھی پانی پی لیں اور جو ٹھہرا یعنی دَہ دردَہ  سے کم پانی کُتّا جھوٹا کر دے وہ ناپاک ہو جاتا ہے۔ مگر جس کومعلوم ہی نہیں کہ دَرِندے نے اس میں سے پانی پیا یا نہیں اُس کے حق میں وہ پانی پاک ہے۔ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلد اوّل صَفْحَہ 342 پر مسئلہ نمبر 10ہے: ’’ سُؤَر، کُتّا ، شیر، چیتا ، بھیڑیا،