ہے۔ اب تُو یہاں سے دفع ہوجا ،میں تیرے وسوسوں میں آکر کبھی بھی اس نَماز کو نہیں دہراؤں گا۔بالآخر جب شیطان نے اپنی ناکامی دیکھی تو ذلیل و خوار ہو کر واپس چلا گیا۔
خیال رہے! ان بُزُرگ کی اسے سختی سے رد کرنے سے غرض یہ تھی کہ شیطان کو ذلیل کیا جائے ،اس کے وَسوَسے کو دفع کیا جائے اور اس کے راستے کو بند کیاجائے۔یہ غرض نہ تھی کہ عمل نادُرُست اور نامکمّل رہنے دیا جائے اورسُستی اور لاپروائی کو روا رکھا جائے اور فریب نفس اور کرم خدا وندی کے بہانے پر اعتماد کر لیاجائے کہ جیسی تیسی غلط نَماز ادا کی جائے اسی پر کفایت کر لی جائے اور دل کو تسلی دینے کے لیے یہ کہا جائے کہ اللہ کریم ہے بخش دے گا۔ (اشعہ ج۱ص۹۲)
وسوسے کا انوکھا رد
ایک بُزُرگ کو اکثر یہ وَسوَسہ آتا کہ جہاں میں نَماز پڑھتا ہوں وہ جگہ ناپاک ہے تو انہوں نے اس وَسوسے کواس طرح دور کیاکہ جان بوجھ کر وہیں نَماز پڑھتے جس جگہ کی ناپاکی کا شک وشُبہ ہوتا تھا۔ (اشعہ ج۱ص۹۳)
وسوسے کی طرف دھیان ہی مت کرو
ایک شاگرد تعلیم مکمل کرنے کے بعد وطن لوٹنے لگا تو استاذ ِمحترم نے پوچھا : جب عبادت کے دوران شیطان وَسوَسہ ڈالتا ہے تو کیا کرتے ہو؟ عرض کی : اُسے دُور کرتا ہوں ۔پوچھا :اگر پھر وَسوَسہ ڈالے تو؟ جواب دیا: اسے دوبارہ دفع کرتاہوں ۔ تیسری مرتبہ