Brailvi Books

وَسْوَسے اور اُن کا علاج
34 - 59
 واقِعی چار ہوئیں تو یہ سجدے شیطان کی ذِلّت و خواری ہوں گے کہ اس نے شک ڈال کر نماز باطِل کرنی چاہی تھی۔    (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ  ج۱ ص۷۲۶)  
بُزُرگ نے شیطان کو نامُراد لوٹا دیا
	 ایک بُزُرگ کے پاس نَمازکے بعد شیطان نے آکر کہا: آپ نے یہ نَماز صحیح طرح نہیں پڑھی لہٰذا اسے دوبارہ پڑھئے۔جواب دیا:میں ہر گز یہ نَماز دوبارہ نہیں پڑھوں گا کیونکہ جیسی میں پڑھ سکتا تھا وَیسی میں نے پڑھ لی اگر اس میں کمی رہ گئی ہے تو میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ  سے اس کی مُعافی مانگ لوں گا۔ شیطان نے کہا: نَماز جیسی عظیم عبادت کے مُعامَلے میں سُستی مت کیجیے یہ سُستی کا موقع نہیں آپ دوبارہ نماز پڑھ لیجئے ۔فرمایا: جو ہونا تھا وہ ہوگیامیں یہ نماز دوبارہ کبھی بھی نہیں پڑھوں گا۔ شیطان نے پھر کہا : دیکھئے میں آپ کی بھلائی کی خاطر نصیحت کر رہاہوں میں آپ کا خیر خواہ ہوں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں آپ کا  مقام و مرتبہ بہت بلند ہے نماز ایک عظیم عبادت ہے آپ جیسے نیک بندے کو نماز کے معاملے میں ضد نہیں کرنی چاہئے ۔ بزرگ نے شیطان کو زیر کرنے کے لئے کہا: چاہے کچھ بھی ہوجائے میں یہ نماز دوبارہ نہیں پڑھوں گا ،رہی بارگاہِ الہٰی میں بلند مرتبے والی بات تو میں اس کی بارگاہ میں بلندی کے بجائے پستی ہی پر خوش ہوں ۔ شیطان نے کہا : اللہ تَعَالٰی ایسی نَمازقَبول ہی نہیں فرماتا ۔کہا:میرارب بَہُت کریم ہے وہ اپنے کرم سے میرے اس ناقص عمل کوبھی قَبول فرما لے گا ،جو مجھ سے ہو سکا وہ میں نے کر لیا اب قَبول کرنا اس کا کام